مفتی عبدالوہاب

محترم قارئین، پی آئی اے اور کراچی کے حوالے سے ایک ویڈیو دیکھنے کا موقع ملا تو ماضی کے کچھ مناظر ذہن میں تازہ ہوگئے۔ ایک وقت تھا جب کراچی صرف پاکستان کا سب سے بڑا شہر نہیں بلکہ دنیا سے جڑنے کا ایک اہم دروازہ سمجھا جاتا تھا۔ دنیا کی بڑی بڑی ایئرلائنز کراچی آتی تھیں، یہ شہر بین الاقوامی سفر کا ایک اہم مرکز تھا اور یہاں سے دنیا کے مختلف حصوں تک رسائی حاصل ہوتی تھی۔
کراچی کی بندرگاہ، اس کا تجارتی مقام اور اس کا ایئرپورٹ اسے خطے کے اہم شہروں میں شامل کرتے تھے۔ بہت سے لوگوں کے لیے بیرونِ ملک سفر کا آغاز کراچی سے ہوتا تھا۔ آج جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ مقام کہاں گیا؟ اور کیا وجوہات ہیں کہ ایک وقت کا یہ عالمی رابطوں کا مرکز آج کئی معاملات میں پیچھے نظر آتا ہے؟
ایک وقت تھا جب پی آئی اے صرف پاکستان کی قومی ایئرلائن نہیں بلکہ دنیا کی بہترین ایئرلائنز میں شمار ہوتی تھی۔ یہ وہ ادارہ تھا جس پر فخر کیا جاتا تھا۔ پی آئی اے نے نہ صرف اپنے مسافروں کو سہولت فراہم کی بلکہ خطے کی کئی ایئرلائنز کی تربیت، تکنیکی معاونت اور ترقی میں بھی کردار ادا کیا۔ اس کے پائلٹس، انجینئرز اور ماہرین نے دنیا کی مختلف ایئرلائنز کو کھڑا کرنے میں مدد دی۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ جو ائیرلائن غیر ملکی ائیرلائنز کو ان کے پائوں پر کھڑا کررہی تھی، وہ اپنے ہی پائوں کٹوا بیٹھی؟
وقت کے ساتھ یہی ادارہ مسلسل زوال کا شکار ہوتا گیا۔ سوال یہ ہے کہ ایک منافع بخش اور عالمی معیار کی ایئرلائن اس مقام تک کیسے پہنچی؟ وہ کون سی پالیسیاں، فیصلے اور حالات تھے جنہوں نے اسے کمزور کیا؟ اگر ہم واقعی بہتری چاہتے ہیں تو صرف موجودہ مسائل کی بات کافی نہیں، بلکہ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ یہ سفر کامیابی سے زبوں حالی تک کیسے پہنچا۔ کیونکہ اداروں کی اصلاح کے لیے ماضی کی غلطیوں کو سمجھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
اب کئی برسوں کے انتظار کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی برطانیہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع ہونا یقیناً ایک خوش آئند خبر ہے۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے قومی ایئرلائن کی براہِ راست پرواز صرف سفر کی سہولت نہیں بلکہ اپنے وطن سے ایک جذباتی تعلق بھی رکھتی ہے۔
ابتدائی طور پر اسلام آباد اور لاہور کے لیے پروازیں بحال کی گئی ہیں، لیکن کراچی کے لیے براہِ راست پرواز کا آغاز نہ ہونا ایک سوال ضرور پیدا کرتا ہے۔
سمجھ نہیں آتا کہ کراچی کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر، معاشی مرکز اور ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ کا حامل شہر ہے۔ یہاں لاکھوں لوگ رہتے ہیں، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق کراچی سے ہے، لیکن بار بار یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس شہر کو کئی معاملات میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔
اگر کسی وجہ سے مسافروں کی تعداد یا آپریشنل مسائل ہیں تو اس کا حل یہ ہو سکتا ہے کہ کم از کم محدود تعداد میں ہی سہی، ہفتے میں ایک یا دو براہِ راست پروازیں شروع کی جائیں۔ ہر مسافر اسلام آباد یا لاہور جا کر وہاں سے دوبارہ اندرونِ ملک سفر کرنے کی سہولت نہیں رکھتا۔
خاص طور پر بزرگ افراد، بیمار مسافر اور ایسے لوگ جنہیں سفر میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، ان کے لیے یہ اضافی مرحلہ بہت دشوار ہو جاتا ہے۔ کل ہی میری اپنی ساس سے گفتگو ہوئی جو ایک عمر رسیدہ عزیز کے بارے میں بتا رہی تھیں کہ وہ لندن سے کراچی جانا چاہتے ہیں لیکن صرف اس لیے سفر سے گریز کرتے ہیں کہ انہیں ایک جہاز سے اتر کر دوسرے جہاز میں منتقل ہونا مشکل لگتا ہے۔ ان کی خواہش صرف اتنی ہے کہ ایک مرتبہ جہاز میں بیٹھیں اور براہِ راست اپنی منزل تک پہنچ جائیں۔
دنیا بھر میں ایئرلائنز کا اصول یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے روٹس کو اس طرح ترقی دیتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ مسافر ان سے جڑیں۔ نئے راستے کھولے جاتے ہیں، مسافروں کی سہولت کو بہتر بنایا جاتا ہے اور کاروباری تعلقات کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ یہی چیز کسی بھی ایئرلائن کو مضبوط بناتی ہے۔
پی آئی اے ہماری قومی ایئرلائن ہے۔ اس کی بحالی اور بہتری ہم سب کے لیے خوشی کی بات ہے۔ لیکن قومی ادارے کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب وہ ملک کے تمام بڑے شہروں اور عوام کی ضروریات کو متوازن انداز میں سامنے رکھے۔
کراچی صرف ایک شہر نہیں، بلکہ پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے۔ اس کے لوگوں کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ انہیں بار بار نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
ایک وقت تھا جب پی آئی اے صرف پاکستان کی قومی ایئرلائن نہیں بلکہ دنیا کی بہترین ایئرلائنز میں شمار ہوتی تھی۔ یہ وہ ادارہ تھا جس پر فخر کیا جاتا تھا۔ پی آئی اے نے نہ صرف اپنے مسافروں کو سہولت فراہم کی بلکہ خطے کی کئی ایئرلائنز کی تربیت، تکنیکی معاونت اور ترقی میں بھی کردار ادا کیا۔ اس کے پائلٹس، انجینئرز اور ماہرین نے دنیا کی مختلف ایئرلائنز کو کھڑا کرنے میں مدد دی۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ جو ائیرلائن غیر ملکی ائیرلائنز کو ان کے پائوں پر کھڑا کررہی تھی، وہ اپنے ہی پائوں کٹوا بیٹھی؟
وقت کے ساتھ یہی ادارہ مسلسل زوال کا شکار ہوتا گیا۔ سوال یہ ہے کہ ایک منافع بخش اور عالمی معیار کی ایئرلائن اس مقام تک کیسے پہنچی؟ وہ کون سی پالیسیاں، فیصلے اور حالات تھے جنہوں نے اسے کمزور کیا؟ اگر ہم واقعی بہتری چاہتے ہیں تو صرف موجودہ مسائل کی بات کافی نہیں، بلکہ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ یہ سفر کامیابی سے زبوں حالی تک کیسے پہنچا۔ کیونکہ اداروں کی اصلاح کے لیے ماضی کی غلطیوں کو سمجھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
امید ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے پر غور کریں گے اور برطانیہ سے کراچی کے لیے بھی براہِ راست پروازوں کو ترجیح دیں گے۔ کیونکہ بہتر رابطے صرف سفر آسان نہیں کرتے، بلکہ ملک، معیشت اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کے تعلق کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔
Mufti Abdul Wahab
Dear readers,
I recently watched a video about PIA and Karachi, and it brought back memories of a very different time. There was once an era when Karachi was not only Pakistan’s largest city, but also one of its main gateways to the world. Major international airlines operated from the city, and its airport, seaport and commercial importance made Karachi a key regional hub.
Looking back today, one naturally wonders: what happened to that position?
The same question applies to Pakistan International Airlines. There was a time when PIA was counted among the respected airlines of the world and was a source of national pride. Its pilots, engineers and aviation experts even helped in the training and development of other airlines in the region.
It is therefore painful to ask how an airline that once helped others stand on their feet eventually found itself struggling to stand on its own.
If we genuinely want PIA to regain its former standing, we must not only discuss its present problems. We also need to understand the decisions, policies and circumstances that caused a once successful institution into decline. Real reform requires us to learn from the mistakes of the past and prevent their occurrence again.
After several years, the resumption of PIA flights to the United Kingdom is certainly welcome news. For overseas Pakistanis, a direct flight on the national airline is more than just a matter of convenience but it also carries a special emotional connection with their homeland.
However, while flights have resumed for Islamabad and Lahore, the absence of a direct service to Karachi raises an important question.
With a population of more than 20 million people, Karachi is Pakistan’s largest city. It is the nation’s economic centre for a multitude of reasons and home to the country’s largest seaport. A very large number of overseas Pakistanis also have strong family connections in Karachi. Yet there is often a feeling that the city does not receive the attention its importance deserves.
If passenger numbers or operational issues make frequent flights difficult, then at least one or two direct flights a week should be considered.
Not every passenger can travel to Islamabad or Lahore and then take another domestic flight to Karachi. This is particularly difficult for elderly people, those who are unwell and passengers who already find long journeys physically demanding.
Only recently, my mother-in-law told me about an elderly relative who wishes to travel from London to Karachi but avoids the journey because changing aircraft is too difficult for him. His wish is simple, that is to board a plane in London and arrive directly in Karachi.
Airlines around the world strengthen themselves by expanding routes, improving passenger convenience and creating better connections. Stronger air links also support trade, business and the wider economy.
PIA is our national airline, and its revival should be welcomed by all of us. But a national institution can only truly succeed when it considers the needs of all major cities in a fair and balanced way.
Karachi is not just another city. It is Pakistan’s economic lifeline. Its people should not repeatedly feel that they are being overlooked.
I hope the relevant authorities will seriously consider restoring direct flights between the United Kingdom and Karachi. Better connections do more than make travel easier. They strengthen the bond between overseas Pakistanis and their homeland, support economic activity and bring families closer together.