Pakistan: Five Days, Five Stories – Part 4: Restoring Sight and Creating Livelihoods

پاکستان: پانچ دن، پانچ کہانیاں

قسط 4 : جمعرات ، آنکھوں کے مفت علاج اور روزگار پراجیکٹ کا وزٹ

مفتی عبدالوہاب

Pakistan: Five Days, Five Stories – Part 4

تھکن کے باوجود ایک نئی صبح

گزشتہ رات پاکستان بہت دیر سے پہنچا تھا۔ جسم تھکا ہوا تھا، لیکن عجیب بات ہے کہ بعض تھکنیں جسم کو تو ہوتی ہیں، دل کو نہیں۔
اور جب اگلی صبح آپ ایسے لوگوں کے درمیان گزارتے ہیں جن کے چہروں پر امید واپس لانی ہو، تو پھر تھکن بھی نعمت لگنے لگتی ہے۔

بصیر ہسپتال اور آنکھوں کی روشنی

جمعرات کی صبح میرا رخ کراچی کے بصیر ہسپتال کی طرف تھا، جہاں ہر جمعرات ہمارے آنکھوں کے مفت آپریشنز کا سلسلہ ہوتا ہے۔

آج تقریباً 60 لوگوں کے موتیے کے آپریشنز ہونے تھے۔

ذرا ایک لمحے کے لیے سوچیں…

ایک بزرگ جو کئی مہینوں یا شاید سالوں سے دھندلا دیکھ رہا ہے۔ اپنے گھر کے لوگوں کے چہرے صاف نہیں دیکھ سکتا۔ قرآن پڑھنا مشکل ہو گیا، اپنے پوتے پوتیوں کو دیکھنا مشکل ہو گیا، گھر کے اندر چلنے کے لیے بھی کسی کا ہاتھ پکڑنا پڑتا ہے۔

اور پھر صرف ایک آپریشن کے بعد اس انسان کی دنیا دوبارہ روشن ہو جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ یہ منصوبہ میرے دل کے بہت قریب ہے۔

غربت اور علاج تک رسائی

دنیا بھر میں موتیا بینائی سے محرومی کی ایک بڑی وجہ ہے، اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائشیشن کے مطابق موتیے کا مؤثر علاج سرجری ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ علاج موجود نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے غریب لوگوں کے لیے علاج تک پہنچنا، اس کا خرچ اٹھانا اور ہسپتال تک پہنچنا ہی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔

پاکستان کے دیہات اور دور دراز علاقوں میں یہ مسئلہ اور بھی تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔

غربت صرف جیب خالی نہیں کرتی، غربت انسان سے اس کے علاج کا حق بھی چھین لیتی ہے۔

کسی کے پاس صاف پانی نہیں، کسی کے پاس مناسب خوراک نہیں، کسی کے پاس علاج کے پیسے نہیں۔ اور جب بیماری شروع ہوتی ہے تو لوگ اسے برداشت کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ معمولی مسئلہ زندگی بھر کی معذوری بن جاتا ہے۔

ایک روپیہ بھی نہیں لیا جاتا

الحمدللہ، کئی سالوں سے ہر جمعرات ہم ایسے ہی لوگوں کو ان کے گھروں سے لاتے ہیں، ان کا علاج کرواتے ہیں، کھانا کھلاتے ہیں، چائے پلاتے ہیں، ان کا خیال رکھتے ہیں اور پھر انہیں واپس ان کے گھروں تک پہنچاتے ہیں۔

ان سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا جاتا۔

اور سچ کہوں تو جب آپریشن کے بعد کوئی بزرگ پہلی مرتبہ آنکھیں کھول کر آپ کو دیکھتا ہے، آپ کا ہاتھ پکڑتا ہے اور دعائیں دیتا ہے، تو اس لمحے میں دنیا کی کسی بھی دولت کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔

وہ دعا دل میں اتر جاتی ہے۔

اور انسان سوچتا ہے کہ یا اللہ، تو نے ہمیں کسی کے لیے آسانی کا ذریعہ بنا دیا، اس سے بڑی نعمت اور کیا ہو سکتی ہے؟

علاج کے بعد روزگار کی طرف

لیکن میں سمجھتا ہوں کہ خدمت صرف کسی کی بیماری دور کرنے کا نام نہیں۔
کسی کو صحت دینا ضروری ہے، لیکن کسی کو روزگار دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے.

اسی لیے آنکھوں کے آپریشنز کے بعد ہمارا ایک اور اہم منصوبہ تھا۔
ہم نے تقریباً 15 لوگوں کو کارٹ، یعنی ٹھیلے، فراہم کیے تاکہ وہ اپنا چھوٹا سا کاروبار شروع کر سکیں۔

پاکستان میں سرکاری اعداد کے مطابق 2024-25 میں بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد رہی، لیکن ان اعداد کے پیچھے لاکھوں انسان ہیں، ایسے نوجوان، باپ اور گھرانے جو صرف یہ چاہتے ہیں کہ انہیں کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے، بلکہ وہ اپنے بچوں کے لیے خود کما سکیں.

ایک ٹھیلا، ایک گھر کی امید

میرے نزدیک کسی بھوکے انسان کو کھانا کھلا دینا بہت بڑی نیکی ہے۔

لیکن اگر آپ اسے روزگار دے دیں، اس کے ہاتھ میں کام دے دیں، اسے اپنے پیروں پر کھڑا کر دیں تو آپ صرف آج کی بھوک نہیں مٹاتے، آپ اس کے کل کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک ٹھیلا شاید دیکھنے میں بہت چھوٹی چیز ہو۔

لیکن اس ٹھیلے کے پیچھے کسی باپ کے بچوں کی فیس ہے۔
کسی ماں کی دوا ہے۔
کسی گھر کا راشن ہے۔
کسی نوجوان کی عزتِ نفس ہے۔
اور سب سے بڑھ کر ایک انسان کا یہ احساس ہے کہ میں کسی کا محتاج نہیں، میں اپنے گھر کے لیے خود کما سکتا ہوں۔

یہی اصل طاقت ہے۔

ہمیں لوگوں کو ہمیشہ اپنے دسترخوان پر بٹھانے کے بجائے، جہاں ممکن ہو، انہیں اپنا دسترخوان لگانے کے قابل بنانا چاہیے۔

دوست، تعلق اور دن بھر کی تھکن

شام ہوئی تو دن ختم ہونے کو تھا۔
جسم تھکا ہوا تھا، لیکن دل عجیب طرح سے ہلکا تھا۔

پھر دوستوں نے بلایا۔
کچھ دیر دوستوں کے ساتھ بیٹھا، باتیں ہوئیں، ہنسی مذاق ہوا، زندگی کے قصے ہوئے۔

اور وہاں بیٹھ کر ایک اور بات محسوس ہوئی:

انسان صرف کام سے نہیں جیتا، انسان تعلق سے بھی جیتا ہے۔

زندگی میں اچھے دوست اس لیے ضروری ہوتے ہیں کہ آپ ہر وقت مضبوط نہیں رہ سکتے۔ کبھی آپ کو کسی ایسے شخص کے ساتھ بیٹھنے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے سامنے آپ کو کچھ ثابت نہ کرنا پڑے۔ جس کے ساتھ خاموشی بھی گفتگو لگے، ہنسی بھی علاج لگے، اور چند گھنٹے بیٹھنا بھی دن بھر کی تھکن اتار دے۔

خدمت آپ کو لوگوں سے جوڑتی ہے،
اور اچھے دوست آپ کو خود سے جوڑتے ہیں۔

دن کا حاصل

سو جمعرات کا دن صرف 60 آنکھوں کے آپریشنز، 15 روزگار کے مواقع اور ایک مصروف شیڈول کا نام نہیں تھا۔

یہ دن مجھے پھر یاد دلا گیا کہ زندگی کی اصل خوبصورتی شاید یہی ہے کہ آپ کسی کی آنکھوں میں روشنی بن جائیں، کسی کے ہاتھ میں روزگار دے دیں، اور شام کو چند مخلص دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر اللہ کا شکر ادا کریں۔

نہ یہ کوئی کمال ہے، نہ احسان۔

یہ اللہ کا فضل ہے۔

اللہ نے توفیق دی، ہم نے صرف ایک ذریعہ بننے کی کوشش کی۔

یا اللہ، ہمیں اس کام میں اخلاص دے، اسے قبول فرما، اور ہمیں ہمیشہ اپنی مخلوق کے لیے آسانی کا ذریعہ بنائے رکھ۔

الحمدللہ علیٰ کل حال۔

(جاری ہے ۔۔۔۔۔)

Pakistan: Five Days, Five Stories

Part Four: Thursday – Restoring Sight and Creating Livelihoods

Mufti Abdul Wahab

Thursday began with another busy schedule, but some forms of tiredness remain in the body without reaching the heart. When the day ahead involves bringing hope into people’s lives, even exhaustion begins to feel worthwhile.

Restoring Sight

My first visit was to Baseer Hospital in Karachi, where every Thursday we arrange free cataract operations for people who cannot afford treatment. Around 60 patients were due to undergo surgery that day.

It is difficult to describe what the restoration of sight means to an elderly person who may have spent months or years seeing the world through a blur. Reading the Qur’an becomes difficult, recognising loved ones becomes harder, and even moving around the home can require assistance.

Then, after a relatively simple operation, that person is able to see again.

This is why our eye-care work remains so close to my heart.

For many poor families, the problem is not that treatment does not exist. The problem is that they cannot afford it or even reach the hospital. Poverty does not only empty a person’s pocket; sometimes it also takes away access to basic healthcare.

Alhamdulillah, for several years we have been bringing patients for treatment, providing their surgery, food and care, and taking them back home without charging them anything.

When an elderly patient holds your hand after surgery and gives you a heartfelt dua, that moment is worth more than any material reward.

From Treatment to Livelihood

Later, our attention moved from healthcare to employment.

We distributed around 15 small business carts to people so they could begin earning for themselves.

A cart may look like a very small thing, but behind it can be a family’s food, a child’s school fees, a mother’s medicine and, most importantly, someone’s dignity.

Feeding a person in need is a great act of charity. But where possible, giving someone the means to earn can change not only their day, but their future.

We should not always bring people to our table. Sometimes the better form of help is to enable them to set up a table of their own.

The Meaning of the Day

By evening, the body was tired but the heart felt lighter. Later, I spent some time with close friends and was reminded that life is not sustained by work alone. Good relationships also give us strength.

Thursday was not simply about 60 eye operations or 15 livelihood opportunities.

It was about bringing light back into someone’s eyes, placing an opportunity in someone’s hands and being grateful that Allah allowed us to become a means of ease for others.

This is not an achievement to boast about. It is a blessing from Allah.

May He accept these efforts, grant sincerity in our work and continue to make us a means of relief for His creation.

Alhamdulillah ‘ala kulli haal.

 (To be continued…..)