Pakistan: Five Days, Five Stories – Part 3: From the Mosques of Sindhri to the Simplicity of Thar

پاکستان: پانچ دن، پانچ کہانیاں

قسط سوم : بدھ ،مسجدوں کی رونق سے تھر کی سادگی تک

مفتی عبدالوہاب

Pakistan: Five Days, Five Stories – Part 3:

فجر کے بعد ایک نئے سفر کا آغاز

منگل کا دن بہت مصروف گزرا تھا اور رات بھی کافی دیر سے آنکھ لگی۔ صبح فجر کے وقت بیدار ہوا تو الحمدللہ ایک نئے دن کا آغاز جماعت کے ساتھ نمازِ فجر سے ہوا۔ ہماری پوری ٹیم وقت پر پہنچ چکی تھی۔ نماز ادا کی اور پھر ہم اپنے اگلے سفر کے لیے روانہ ہوگئے۔

ہمارا پہلا پڑاؤ سینھڈری تھا۔ الحمدللہ بغیر کسی رکاوٹ کے ہم وہاں پہنچے اور تقریباً ساڑھے تین گھنٹے کے سفر کے بعد منزل پر پہنچ گئے۔

مساجد کی رونق اور 12 ربیع الاول

وہاں پہنچتے ہی ہماری مصروفیات کا آغاز ہوگیا۔ الحمدللہ الوہاب فاؤنڈیشن کی تعمیر کردہ تقریباً چار مساجد کا دورہ کیا۔ ایک مسجد کی بنیاد بھی رکھی۔ اتفاق سے وہ 12 ربیع الاول کا دن تھا، اس لیے ہر مسجد میں ایک خوبصورت روحانی ماحول تھا۔ لوگ جمع تھے، حضور اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کے حوالے سے بیانات ہوئے، مسجد کی اہمیت کے بارے میں گفتگو ہوئی، بچوں اور لوگوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا گیا، اور بعض جگہوں پر مقامی احباب نے مٹھائی کا بھی اہتمام کیا تھا۔

یہ سب دیکھ کر دل کو بہت خوشی ہوئی۔ مسجد صرف اینٹوں اور پتھروں کی عمارت نہیں، بلکہ کسی بستی کی روح ہوتی ہے۔ جہاں مسجد آباد ہوتی ہے وہاں صرف نماز کا اہتمام نہیں ہوتا بلکہ نسلیں دین سے جڑتی ہیں، بچوں کی تربیت ہوتی ہے اور ایک معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔

اس پورے سفر میں ہمارے مقامی ساتھی بھی مسلسل ہمارے ساتھ رہے۔ میں ان تمام دوست احباب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے اپنا وقت دیا، ہمارے ساتھ چلے اور اس سفر کو آسان اور بامقصد بنایا۔

سندھی مہمان نوازی اور قلندر بخش صاحب کی محبت

دوپہر کے وقت ہم قلندر بخش صاحب کے ہاں پہنچے۔ وہ اس علاقے کے نہایت متحرک اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔ سندھی روایت کے مطابق انہوں نے جس محبت اور خلوص سے ظہرانے کا اہتمام کیا، وہ اپنی جگہ ایک خوبصورت یاد بن گیا۔ بھنڈی، مچھلی اور دیگر لذیذ کھانوں سے بھرپور دسترخوان تھا۔

ان کی خوبصورت بیٹھک اور حویلی میں کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔ ان کا تعلق پیر پگارا صاحب سے ہے، اس لیے پیر پگارا صاحب کی شخصیت اور ان کے نظریات کے حوالے سے بھی بہت گفتگو ہوئی۔ گفتگو کے ساتھ ساتھ اس علاقے کے لوگوں کی محبت، سادگی اور مہمان نوازی نے بھی بہت متاثر کیا۔

اچرو تھر کی طرف سفر

ظہرانے کے بعد ہم اچرو تھر کی طرف روانہ ہوئے۔ تقریباً پون گھنٹے کے سفر کے بعد ہم اس ریگستانی علاقے میں پہنچے، جہاں ہم نے واٹر ویل اور واٹر ہینڈ پمپ نصب کیے تھے۔

ریت کے وسیع میدان، چھوٹے چھوٹے گاؤں، سادہ گھر اور انتہائی سادہ طرزِ زندگی—یہ سب کچھ اپنے اندر ایک الگ ہی حسن رکھتا تھا۔

قناعت، صبر اور شکر کی زندگی

مجھے وہاں کے لوگوں میں ایک چیز بہت زیادہ پسند آئی: ان کی قناعت، صبر اور شکر۔

زندگی کی بنیادی سہولتیں محدود ہیں، پانی کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود ان لوگوں کے چہروں پر ایک عجیب سا اطمینان، صبر اور مہمان نوازی نظر آتی ہے۔ ان کی سادہ زندگی دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ خوشی اور سکون ہمیشہ زیادہ سہولتوں کا محتاج نہیں ہوتا۔

ہم نے مختلف گاؤں اور دیہات کا وزٹ کیا، لوگوں سے ملے، ان کے رہن سہن کو دیکھا اور ان کی زندگی کو قریب سے محسوس کیا۔ یہ علاقہ اپنی سادگی میں بہت خوبصورت ہے، لیکن اسی خوبصورتی کے درمیان پانی کی کمی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

پانی، ایک بنیادی ضرورت

ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ گھروں اور آبادیوں تک پانی پہنچایا جائے۔ جہاں ممکن ہو وہاں واٹر ہینڈ پمپ اور واٹر ویل نصب کیے جائیں، تاکہ لوگوں کو پانی کے حصول کے لیے دور دراز کا سفر نہ کرنا پڑے اور ان کی زندگی میں کچھ آسانی اور بہتری آ سکے۔

دس گھنٹے کا سفر، مگر روح تازہ

شام تک ہماری سرگرمیاں جاری رہیں۔ عصر کی نماز ادا کی، پھر مغرب کی نماز بھی پڑھی، اور واپسی کے راستے میں عشاء کی نماز ادا کی۔ آخرکار رات تقریباً ساڑھے گیارہ یا بارہ بجے کے قریب گھر پہنچا۔

اگر صرف سفر کا حساب کیا جائے تو تقریباً چار گھنٹے جانے کے، چار گھنٹے واپسی کے اور تقریباً دو گھنٹے اندرونی سفر کے—یعنی قریب دس گھنٹے تو صرف سفر میں گزر گئے۔

جسم یقیناً تھک چکا تھا۔

لیکن عجیب بات یہ تھی کہ روح نہیں تھکی تھی۔

بلکہ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے جسم کی تھکن کے باوجود دل کے اندر ایک عجیب سا سکون اتر آیا ہو۔ شاید اس لیے کہ انسان جب اللہ کے بندوں کی خدمت میں اپنا وقت صرف کرتا ہے تو جسم تھکتا ہے، مگر روح کو راحت ملتی ہے۔

خدمت کا اصل حاصل

مساجد کی تعمیر، ان کی آبادکاری، دور دراز بستیوں میں پانی پہنچانے کی کوشش، لوگوں کے درمیان بیٹھنا، ان کے مسائل سننا اور ان کی زندگی کو قریب سے دیکھنا، یہ سب میرے لیے محض ایک سفر نہیں تھا۔

یہ میرے لیے ایک یاد دہانی تھی کہ ہمارے ملک میں آج بھی ایسے بہت سے علاقے موجود ہیں جہاں بنیادی سہولتیں محدود ہیں، جہاں مسجد کی ضرورت ہے، جہاں پانی کی ضرورت ہے اور جہاں ہماری معمولی سی کوشش بھی کسی خاندان کی زندگی میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔

الحمدللہ، ہماری کوشش یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، ان علاقوں تک پہنچیں، مساجد تعمیر کریں، انہیں آباد کریں اور لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں اپنا حصہ ڈالیں۔

دن بہت تھکا دینے والا تھا، مگر دل بہت مطمئن تھا۔
جسم تھک گیا تھا، لیکن روح کی تھکن اتر چکی تھی۔

اور شاید خدمتِ خلق کے سفر کی سب سے خوبصورت بات یہی ہے کہ انسان دوسروں کی زندگی میں آسانی پیدا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اپنے دل میں سکون پیدا فرما دیتا ہے۔

Pakistan: Five Days, Five Stories

Part 3: Wednesday – From the Mosques of Sindhri to the Simplicity of Thar

Mufti Abdul Wahab

A Day of Mosques and Community

Wednesday began with Fajr in congregation, after which our team set out towards Sindhri. After a journey of around three and a half hours, we reached the area and began visiting several mosques built by Al-Wahab Foundation. We also had the opportunity to lay the foundation of another mosque.

As it was 12th Rabi al-Awwal, there was a beautiful atmosphere in the local communities. People had gathered in the mosques, reminders were given about the Seerah of the Prophet ﷺ, and food was arranged for families and children.

Seeing these mosques filled with people was deeply satisfying. A mosque is not simply a building. It becomes the heart of a community, connecting people with prayer, faith, learning and one another.

From Sindhri to Achro Thar

After experiencing the warmth and hospitality of our local friends, we travelled towards Achro Thar to visit water wells and hand pumps installed in remote villages.

The vast desert, small settlements and simple homes presented a very different way of life. What impressed me most was the patience, contentment and gratitude of the people. Despite limited facilities and serious challenges in accessing water, there was a remarkable sense of peace and hospitality.

It reminded me once again that happiness is not always dependent upon having more.

Water remains one of the greatest needs in these communities. Our aim is to continue providing wells and hand pumps wherever possible so that families do not have to travel long distances simply to obtain water.

Tired in Body, Peaceful at Heart

By the time we returned home, we had spent almost ten hours travelling. Physically, it had been a very demanding day.

Yet the heart felt completely different.

Visiting mosques, meeting local people and seeing how something as basic as clean water can transform daily life reminded me why this work matters.

There are still many communities where a mosque, a water source or a small amount of support can make an enormous difference.

The body was tired, but the heart was at peace.

Perhaps that is one of the greatest rewards of serving people: when you try to bring ease into someone else’s life, Allah places a special kind of peace within your own.

 (To be continued…..)