Pakistan: Five Days, Five Stories – Part 1

پاکستان: پانچ دن، پانچ کہانیاں

ایک مختصر سفر، کچھ ملاقاتیں، کچھ سوال اور بہت سا احساس
مفتی عبدالوہاب

کبھی کبھی سفر فاصلے طے کرنے کا نام نہیں ہوتا۔ بعض سفر انسان کو اپنے اندر جھانکنے میں مدد کرتے ہیں، اپنے ماضی سے ملاتے ہیں، اپنے لوگوں کے قریب لے جاتے ہیں اور ایسے سوالات سامنے کھڑے کر دیتے ہیں جن سے آنکھ چرانا ممکن نہیں ہوتا۔

پاکستان کا میرا حالیہ سفر بھی کچھ ایسا ہی تھا۔

کافی عرصے بعد پاکستان جانے کا موقع ملا۔ اس سے پہلے تقریباً بقر عید کے موقع پر پاکستان گیا تھا اور اب کئی ماہ گزرنے کے بعد دوبارہ کراچی کی سرزمین پر قدم رکھنے کا موقع ملا۔ ذوالحجہ، محرم اور صفر کے ایام گزر چکے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً تین ماہ کا عرصہ بیت گیا تھا۔

میں پیر کی رات لندن سے روانہ ہوا اور منگل کی صبح پاکستان پہنچ گیا۔ واپسی اتوار کی صبح کی فلائٹ سے ہوئی۔ یوں پاکستان میں میرے پاس عملی طور پر پانچ دن تھے۔ منگل، بدھ، جمعرات، جمعہ اور ہفتہ۔

صرف پانچ دن۔
لیکن ان پانچ دنوں میں ملاقاتیں بہت تھیں، کام بہت تھا، سوچنے کے لیے سوال بہت تھے اور محسوس کرنے کے لیے احساسات اس سے بھی زیادہ۔

اس لیے میں نے سوچا کہ اس مختصر سفر کی پوری روداد ایک ہی طویل کالم میں بیان کرنے کے بجائے اسے پانچ اقساط میں تقسیم کیا جائے۔ ہر دن کی اپنی ایک کہانی ہے، اپنی ایک کیفیت ہے، اپنے لوگ ہیں، اپنی ملاقاتیں ہیں اور اپنے سوالات ہیں۔ چنانچہ اس سلسلے کی ہر قسط میں ایک دن کی روداد آپ کے سامنے رکھوں گا۔

یہ محض ایک سفرنامہ نہیں ہوگا۔ اس میں سفر بھی ہے، مشاہدہ بھی، ملاقاتیں بھی، خدمت کے کچھ تجربات بھی اور پاکستان کے موجودہ حالات کے بارے میں چند تلخ مگر ضروری سوال بھی۔

پاکستان سے تعلق، تین دہائیوں کا سفر
میں تقریباً 1996 میں پاکستان سے باہر نکلا تھا۔ یوں اب پاکستان سے باہر رہتے ہوئے تقریباً تین دہائیاں گزر چکی ہیں۔ لیکن ان تین دہائیوں میں ایک چیز نہیں بدلی: پاکستان سے میرا تعلق۔

میں نے پاکستان چھوڑا ضرور، لیکن پاکستان سے اپنا رشتہ کبھی نہیں توڑا۔

کراچی سے تعلق قائم رہا، سندھ سے تعلق قائم رہا اور پاکستان سے تعلق بھی الحمدللہ آج تک قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے کہ اس نے مجھے اپنے وطن اور اپنے لوگوں سے جڑے رہنے کی توفیق دی۔

میرے لیے پاکستان جانے کا مقصد صرف اپنے لوگوں سے ملنا یا چند دن گزار کر واپس آ جانا نہیں ہے۔ خاندان، دوست احباب، خوشی کی تقریبات اور شادی بیاہ اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن جب بھی پاکستان جاتا ہوں تو میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ ان لوگوں کے درمیان گزاروں جنہیں معاشرے میں سب سے کم توجہ ملتی ہے۔

غریب، مسکین، بیمار، ضرورت مند اور بے سہارا لوگ۔

یہی میرے پاکستان جانے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

غریبوں کے درمیان جانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟

اس کا پہلا سبب شکر ہے۔

جب انسان اپنے سے کم سہولت رکھنے والے لوگوں کے درمیان بیٹھتا ہے، بیماروں کو دیکھتا ہے، ایسے خاندانوں سے ملتا ہے جو بنیادی ضروریات کے لیے بھی پریشان ہیں، تو اسے اپنی زندگی کی نعمتوں کا احساس زیادہ شدت سے ہوتا ہے۔

ہم اکثر ان چیزوں کو معمول سمجھ لیتے ہیں جو دراصل اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمتیں ہوتی ہیں۔

صحت، گھر، روزگار، عزت، امن، بچوں کی تعلیم، دو وقت کی روٹی اور زندگی کی بے شمار چھوٹی بڑی سہولتیں۔

لیکن جب آپ کسی ایسے انسان کے سامنے بیٹھتے ہیں جو ان میں سے کسی ایک بنیادی ضرورت کے لیے بھی جدوجہد کر رہا ہو تو انسان کے اندر سے بے اختیار آواز آتی ہے:

الحمدللہ!

دوسری چیز جو مجھے ان ملاقاتوں سے ملتی ہے، وہ حوصلہ اور توانائی ہے۔

یہ لوگ مجھے کمزور نہیں کرتے، بلکہ مجھے مزید مضبوط کرتے ہیں۔ ان کی مشکلات دیکھ کر دل میں یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے کسی قابل بنایا ہے، کچھ وسائل دیے ہیں، کچھ صلاحیت دی ہے تو مجھے ان لوگوں کے لیے مزید کام کرنا چاہیے۔

یہی احساس میرے لیے ایک طرح کی مثبت توانائی بن جاتا ہے۔

پاکستان کا ایک دوسرا چہرہ
لیکن اس سفر میں ایک اور حقیقت بھی میرے سامنے تھی۔

پاکستان کے حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ دنیا کے کئی ایسے ممالک جو کبھی ہم سے پیچھے تھے، وقت کے ساتھ آگے بڑھے، ان کا معیارِ زندگی بہتر ہوا، ان کے عام آدمی کی زندگی میں سہولتیں آئیں اور ان کے معاشرے میں خوشحالی پھیلی۔

ہمارے ہاں بھی ترقی کے دعوے ہوتے ہیں، عمارتیں بنتی ہیں، منصوبے بنتے ہیں، جدید سہولتیں آتی ہیں اور ایک طبقہ یقیناً خوشحال بھی ہو رہا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ عام آدمی کہاں کھڑا ہے؟

کیوں ایک طبقہ مسلسل طاقتور اور خوشحال ہوتا جا رہا ہے جبکہ غریب، مزدور، بیمار اور ضرورت مند طبقہ مسلسل مشکلات میں گھرا ہوا دکھائی دیتا ہے؟

یہ منظر صرف تکلیف نہیں دیتا، کبھی کبھی غصہ بھی دلاتا ہے۔

کیونکہ غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں۔ غربت کے ساتھ بیماری ہے، بے بسی ہے، بچوں کی تعلیم کا مسئلہ ہے، علاج کی پریشانی ہے، روزگار کی فکر ہے اور سب سے بڑھ کر مستقبل کے بارے میں ایک مسلسل خوف ہے۔

اور جب آپ ان لوگوں کے درمیان چند دن گزاریں تو یہ مسائل اعداد و شمار نہیں رہتے، چہرے بن جاتے ہیں۔

نام بن جاتے ہیں۔

کہانیاں بن جاتے ہیں۔

اور پھر انہیں نظر انداز کرنا آسان نہیں رہتا۔

پانچ دن، پانچ قسطیں

اسی لیے اس سفر کی روداد میں صرف یہ نہیں بتاؤں گا کہ میں کہاں گیا، کس سے ملا اور کیا دیکھا۔ کوشش ہوگی کہ ان پانچ دنوں کے ذریعے پاکستان کے عام انسان کی زندگی کی کچھ جھلکیاں بھی آپ کے سامنے آ سکیں۔

پہلی قسط: پاکستان پہنچنے کا دن، منگل، پہلی ملاقاتیں اور سفر کے ابتدائی تاثرات۔
دوسری قسط: بدھ، مختلف لوگوں سے ملاقاتیں، خدمت کے منصوبے اور ان سے جڑی ہوئی کہانیاں۔
تیسری قسط: جمعرات، کچھ ایسے مشاہدات جنہوں نے سوچنے پر مجبور کیا۔
چوتھی قسط: جمعہ، لوگوں کے درمیان گزرا ہوا دن، ان کے مسائل اور ان سے ملنے والی امید۔
پانچویں قسط: ہفتہ، سفر کا آخری دن، پورے سفر کا حاصل اور وہ سوالات جو پاکستان سے واپسی کے بعد بھی ذہن میں موجود رہے۔

اتوار کی صبح لندن واپسی تھی، لیکن بعض سفر جہاز کے اڑنے کے ساتھ ختم نہیں ہوتے۔
یہ بھی شاید ایسا ہی سفر تھا۔

پانچ دن پاکستان میں، تقریباً تین دہائیاں پاکستان سے باہر، مگر دل کا رشتہ آج بھی وہیں۔

Pakistan: Five Days, Five Stories – Part 1

Mufti Abdul Wahab

Sometimes a journey is not simply about travelling from one place to another. Some journeys reconnect us with our past, bring us closer to our people and leave us with questions that are difficult to ignore.

My recent visit to Pakistan was one such journey.

I had only five full days in the country, from Tuesday to Saturday. Yet those five days were filled with meetings, charitable work, reflections and many emotions. Rather than describing everything in one long article, I have decided to share the journey in five parts, with each day carrying its own experiences, people and lessons.

I left Pakistan around 1996 and have now lived abroad for almost three decades. But one thing has never changed: my connection with Pakistan. I may have left the country, but I never disconnected from its people.

Whenever I visit, I try to spend time not only with family and friends, but also with those who are often overlooked: the poor, the sick, the struggling and the vulnerable.

Meeting such people teaches me gratitude. We often take health, shelter, food, employment and education for granted until we meet someone struggling for these basic necessities. These encounters make one say Alhamdulillah with a deeper understanding.

They also give me motivation. Seeing hardship does not weaken me; it strengthens my determination to do more wherever Allah has given me the ability and resources to help.

At the same time, these visits raise difficult questions about Pakistan.

Development may be visible in some areas, but what about the ordinary person? Why do so many families still struggle with healthcare, education, employment and basic living costs?

When you meet these people personally, poverty is no longer a statistic. It becomes a face, a name and a story.

Over the next five parts, I will share what I saw, whom I met, the work being carried out and the questions that remained with me even after returning to London.

Some journeys end when the plane takes off.

Others remain with you long after you return home.

 (To be continued…..)