مفتی عبدالوہاب

کراچی ایئرپورٹ کے تمام مراحل بآسانی مکمل ہونے کے بعد ہم جہاز میں سوار ہوئے اور کچھ وقت بعد سری لنکا پہنچ گئے۔
میرے لیے یہ سفر کئی اعتبار سے غیر معمولی تھا۔ یہ عمرہ کے بعد میرا پہلا بین الاقوامی سفر تھا، ایک نیا ملک تھا، محدود وسائل تھے اور پاکستان سے لے جانے والا کپڑا فروخت کرکے تمام اخراجات اور قرض ادا کرنے کی ذمہ داری بھی ہمارے سامنے تھی۔
مگر دل میں شوق تھا، ذہن میں منصوبہ تھا اور میرے دوست سلیم الدین کا ایک جملہ مسلسل میرے ساتھ تھا:
“ڈرنا مت۔”
کولمبو ایئرپورٹ پہنچنے پر سلیم الدین نے اپنا سامان بھی میری ٹرالی میں رکھ دیا۔ اس نے کہا:
“تم غیر ملکی ہو، اس لیے کسٹم والے تم سے زیادہ سوال جواب نہیں کریں گے۔ اپنے شہریوں سے وہ نسبتاً زیادہ پوچھ گچھ کرتے ہیں، اس لیے میرا سامان بھی تم اپنے ساتھ لے کر باہر چلے جاؤ۔”
اس کی ایک وجہ غالباً یہ بھی تھی کہ ان دنوں پاکستان سے سری لنکا جانے والے بہت سے مسافر بڑی مقدار میں کپڑا، ببل گم اور مٹھائیاں وغیرہ لے کر جاتے تھے۔ اسی وجہ سے ایئرپورٹ پر کسٹم حکام اپنے شہریوں کے سامان کو زیادہ توجہ سے دیکھتے اور ان سے تفصیلی پوچھ گچھ کرتے تھے۔
میں سامان سے بھری ٹرالی لے کر امیگریشن اور کسٹم دونوں مراحل سے بآسانی گزر گیا۔ چند ہی لمحوں میں ایئرپورٹ کی عمارت سے باہر تھا۔
باہر آکر میں نے مڑ کر سلیم الدین کو تلاش کیا، لیکن اس کا کچھ پتا نہ تھا۔ میں واپس اندر نہیں جا سکتا تھا اور کافی وقت گزرنے کے باوجود وہ باہر نہیں آیا۔
ایک اجنبی ملک تھا، زبان اور ماحول نیا تھا، تمام سامان میرے پاس تھا اور میرا دوست کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔
یہی وہ موقع تھا جب سلیم الدین کا جملہ ایک مرتبہ پھر میرے ذہن میں گونجا:
“عبدالوہاب! ڈرنا نہیں۔”
وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ انسان کو کسی بھی قسم کی صورت حال میں خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ حالات کیسے بھی ہوں، ان کا سامنا کرنا چاہیے، نہ کہ خوف میں مبتلا ہوکر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی کھو دی جائے۔
میں ایئرپورٹ کے باہر ہی موجود رہا۔ تقریباً تین گھنٹے کے انتظار کے بعد سلیم الدین باہر نکلا۔
معلوم ہوا کہ دوسرے بعض طلبہ کے سامان کی وجہ سے اسے بھی اندر روک لیا گیا تھا۔ کسٹم حکام سے کچھ بحث اور الجھن پیدا ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے اتنا وقت لگ گیا۔
بہرحال ہم دونوں اس بات پر مطمئن تھے کہ پاکستان سے لایا ہوا ہمارا کپڑا اور باقی سامان بحفاظت ہمارے پاس موجود تھا۔
کولمبو سے ہم سیدھے سلیم الدین کے سسرال پہنچے۔ وہاں پہنچ کر مجھے سری لنکا کے معاشرتی رواج کے بارے میں ایک ایسی بات معلوم ہوئی جو میرے لیے بہت حیران کن تھی۔
سری لنکا کے بعض علاقوں میں یہ رواج پایا جاتا ہے کہ شادی کے بعد دلہن کے بجائے دولہا رخصت ہوکر اپنے سسرال چلا جاتا ہے اور پھر وہیں رہائش اختیار کرتا ہے۔
گھر کے لوگ بہت ملنسار تھے اور انہوں نے نہایت محبت اور خلوص کے ساتھ ہمارا استقبال کیا۔
گھر کافی چھوٹا تھا۔ اس میں دو کمرے تھے۔ ایک کمرے میں مرد حضرات سوتے تھے اور دوسرے میں خواتین۔ اسی طرح گھر میں بیت الخلا بھی ایک ہی تھا۔
میں نے پہلی رات وہیں گزاری، لیکن اگلے دن مجھے محسوس ہوا کہ میری موجودگی کی وجہ سے گھر کے تمام افراد کو مشکل اور تنگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
میں نے سلیم الدین سے کہا:
“مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میری وجہ سے گھر والوں کو دقت ہو رہی ہے، اس لیے بہتر ہے کہ میں کسی دوسری جگہ قیام کرلوں۔”
چنانچہ میں اپنا سامان لے کر قریب ہی موجود ایک مسجد میں چلا گیا۔
اس مسجد کے امام صاحب بھی کراچی کے مدرسہ بنوری ٹاؤن سے فارغ التحصیل تھے۔ ان سے ملاقات ہوئی تو ایک تعلق اور اپنائیت کا احساس پیدا ہوا۔
میں نے انہیں اپنی صورت حال بتائی تو انہوں نے خوش دلی سے مسجد میں قیام کی اجازت دے دی۔
یوں میرے رہنے کے لیے ایک مناسب اور پُرسکون جگہ کا انتظام ہوگیا۔
بعض اوقات سفر میں بڑے ہوٹل اور آرام دہ کمرے میسر نہیں ہوتے، لیکن کسی مسجد کا گوشہ بھی انسان کو ایسی راحت دے دیتا ہے جو دنیا کی بہت سی آسائشوں سے بڑھ کر محسوس ہوتی ہے۔
میرے لیے مسجد میں قیام صرف رہائش کا انتظام نہیں تھا، بلکہ ایک اجنبی ملک میں اپنے دینی اور علمی تعلق کی برکت کا تجربہ بھی تھا۔
قیام کا انتظام ہونے کے بعد میں اور سلیم الدین اپنے لائے ہوئے کپڑے فروخت کرنے، مختلف علاقوں کو دیکھنے اور لوگوں سے ملاقات کرنے میں مصروف ہوگئے۔
سفر کا ایک پہلو تجارت تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ نئے ملک، نئی تہذیب اور وہاں کے مسلمانوں کو قریب سے دیکھنے کا بھی بہترین موقع تھا۔
ہم کئی دوسرے شہروں میں بھی گئے۔ مختلف مساجد میں حاضری ہوتی، بیانات کا سلسلہ رہتا اور مقامی لوگوں سے ملاقاتیں ہوتیں۔
مساجد میں جانے اور لوگوں کے ساتھ بیٹھنے سے معاشرے کو سمجھنے کا وہ موقع ملتا ہے جو محض سیاحتی مقامات دیکھنے سے حاصل نہیں ہوتا۔ انسان لوگوں کے رہن سہن، ان کے دینی رجحانات، معاشرتی عادات اور روزمرہ زندگی کو قریب سے دیکھتا ہے۔
ان دنوں کے مشاہدات اور واقعات اتنے زیادہ ہیں کہ ان پر الگ سے تفصیل کے ساتھ لکھا جا سکتا ہے۔ ان شاء اللہ سفر سے متعلق یادداشتوں کے سلسلے میں ان تجربات کو بھی وقتاً فوقتاً قلم بند کرتا رہوں گا۔
ہم نے سری لنکا میں تقریباً ایک ماہ گزارا۔ اس دوران سیر و تفریح بھی کی، مختلف شہروں اور علاقوں کو دیکھا، مقامی لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان سے لے جانے والا کپڑا فروخت کیا۔
ہمارا مقصد صرف گھومنا پھرنا نہیں تھا۔ ہمیں اپنے تجارتی منصوبے کو بھی کامیاب بنانا تھا، کیونکہ کپڑا ادھار لیا گیا تھا اور سفر کا ٹکٹ بھی قرض پر حاصل کیا گیا تھا۔
اس لیے ہر قدم کے ساتھ یہ احساس موجود تھا کہ جن لوگوں نے ہم پر اعتماد کیا ہے، واپسی پر ان کا حق ادا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
پاکستان واپسی کے وقت ہم سری لنکا سے کاجو اور پان اپنے ساتھ لائے۔ ہمارا منصوبہ ابتدا ہی سے یہ تھا کہ کپڑا وہاں فروخت کریں گے اور واپسی پر ایسی چیزیں پاکستان لائیں گے جنہیں یہاں فروخت کرکے مزید آمدنی حاصل کی جا سکے۔
پاکستان پہنچنے کے بعد پان اور کاجو فروخت کیے گئے۔
پھر تمام حساب کتاب کیا گیا۔ ٹکٹ کے پیسے، کپڑے کی رقم اور دوسرے واجبات الگ کیے گئے۔
تمام اخراجات اور قرض ادا کرنے کے بعد بھی مجھے تقریباً *دو سو ڈالر* کا منافع ہوا۔
اپنی محنت سے حاصل ہونے والی اس کمائی کی دلی مسرت اور خوشی کا اندازہ شاید صرف میں ہی کرسکتا ہوں۔
یہ محض دو سو ڈالر نہیں تھے، بلکہ اس بات کا ثبوت تھے کہ ایک طالب علم وسائل کی کمی کے باوجود ہمت، منصوبہ بندی اور دیانت داری کے ساتھ قدم اٹھائے تو اپنے لیے راستہ بنا سکتا ہے۔
ہم نے کسی سے مالی امداد طلب نہیں کی تھی۔ لوگوں نے ہم پر اعتماد کرتے ہوئے کپڑا اور ٹکٹ ادھار دیا تھا۔ ہم نے اپنا منصوبہ مکمل کیا، تجارت کی، واپس آئے، تمام واجبات ادا کیے اور اس کے بعد بھی کچھ منافع حاصل کیا۔
گھر والے اور مدرسے کے دوسرے طلبہ بھی حیران تھے کہ میں کسی سے مالی مدد طلب کیے بغیر تقریباً ایک ماہ تک دوسرے ملک میں رہ کر واپس آیا، اپنے اخراجات پورے کیے، قرض ادا کیا اور کچھ منافع بھی کمایا۔
یہ تجربہ میرے لیے خود اعتمادی کا ذریعہ بنا۔ اس نے مجھے یہ یقین دیا کہ انسان اگر اپنی حالت کا ماتم کرنے کے بجائے دستیاب وسائل سے کوئی راستہ بنائے تو اللہ تعالیٰ اس کی کوشش میں برکت عطا فرماتا ہے۔
سفر ابھی ختم ہوا تھا، لیکن اس کے اسباق زندگی بھر میرے ساتھ رہنے والے تھے۔
Episode Two: Three Hours at Colombo Airport and a Month of Trade
By Mufti Abdul Wahab
After completing the formalities at Karachi Airport, we boarded the flight and eventually arrived in Sri Lanka.
For me, everything was new: the country, the atmosphere and the responsibility of making our business plan succeed. We had borrowed both the fabric and the cost of the ticket, so this was not simply a sightseeing trip. We had to trade successfully and repay those who had trusted us.
Throughout the journey, Saleemuddin’s words remained in my mind:
“Do not be afraid.”
When we arrived at Colombo Airport, Saleemuddin placed his luggage on my trolley as well.
He explained that customs officers usually questioned their own citizens more closely than foreign visitors. At that time, many travellers from Pakistan carried fabric, bubble gum, sweets and other items to Sri Lanka, so local passengers often faced detailed checks.
I took the trolley through immigration and customs without difficulty and soon found myself outside the airport.
When I turned around to look for Saleemuddin, however, he was nowhere to be seen.
I could not go back inside. The country was unfamiliar, the language and surroundings were new, and all the luggage was with me. As time passed, there was still no sign of my friend.
Once again, his own advice came to mind: do not be afraid. A person must face difficult situations calmly rather than allowing fear to destroy the ability to think clearly.
Eventually, Saleemuddin appeared. Some of the other students had experienced problems with their luggage, and he had also been delayed while dealing with customs officials.
We were relieved that all the fabric and other goods we had brought from Pakistan were still safe.
From the airport, we travelled directly to Saleemuddin’s in-laws’ home in Colombo.
There I learned about a custom found in some parts of Sri Lanka. After marriage, instead of the bride moving to the groom’s home, the groom moves into his wife’s family home and lives with them.
The family welcomed me with great warmth and hospitality. However, the house was very small, with only two rooms. The men slept in one room and the women in the other, and there was only one toilet for the entire household.
I spent the first night there, but the following day I felt that my presence was creating additional difficulty for the family.
I told Saleemuddin that I did not want them to face inconvenience because of me, so I took my belongings to a nearby mosque.
The imam of that mosque had also graduated from Banuri Town in Karachi. When I explained my situation, he kindly allowed me to stay there.
This gave me a suitable and peaceful place to live. In an unfamiliar country, the connection of faith and religious education created an immediate sense of belonging.
Once my accommodation was arranged, Saleemuddin and I began selling the fabric we had brought from Pakistan.
At the same time, we travelled to several cities, visited mosques, met local people and attended religious gatherings. There were also opportunities to deliver talks in different places.
The journey therefore became much more than a commercial trip. It allowed me to observe a new society, meet its Muslim community and understand aspects of its religious and social life.
Many incidents from that period deserve separate articles of their own, and, God willing, I hope to write more about those memories and observations in the future.
During that time, we travelled, visited different areas, sold the fabric and gained valuable experience. However, we always remembered that the goods and ticket had been obtained on credit.
The trust people had placed in us had to be honoured.
Our original plan had been to sell the fabric in Sri Lanka and bring back goods that could be sold in Pakistan.
On our return journey, we therefore carried betel leaves and cashew nuts with us. After arriving in Pakistan, these were sold.
We then calculated the complete financial outcome of the journey. The cost of the ticket, the fabric and all other obligations were separated and repaid.
Even after paying everything, I had made a profit of approximately *200 US dollars*.
The happiness I felt from earning that money through my own effort is difficult to describe.
It was not simply a profit of two hundred dollars. It was proof that a student with limited resources could develop a plan, work hard, travel abroad, trade honestly, repay every debt and still return with a profit.
My family and fellow students at the madrasa were surprised that I had spent a month in another country without asking anyone for financial assistance.
I had managed my expenses, fulfilled all commitments and gained valuable experience.
The journey gave me confidence. It taught me that instead of constantly complaining about what we do not have, we should examine the resources already available to us and use them wisely.
When effort is combined with honesty and trust in Allah, unexpected paths can open.