Pakistan: Five Days, Five Stories – Part 6: Saturday – A City, Service and Many Prayers

پاکستان: پانچ دن، پانچ کہانیاں

قسط 6 : ہفتہ – ایک شہر، کچھ خدمت اور بہت سی دعائیں

مفتی عبدالوہاب

Pakistan: Five Days, Five Stories – Part 6

کراچی، ایک شہر جو رکنا نہیں جانتا

آج پاکستان میں میرا پانچواں دن تھا، اور ہفتے کا دن۔ یہ دن بہت مصروف، بہت اہم، لیکن اتنا ہی خوبصورت بھی تھا۔ صبح کا آغاز ایک ایسے موسم میں ہوا جو اس وقت کراچی کی خاص پہچان بن چکا ہے۔ نہ زیادہ سردی، نہ گرمی، بس خشک اور خوشگوار موسم… اور اس کے ساتھ کراچی کی اپنی ایک الگ وائب، اپنی ایک چاشنی۔

دنیا میں بڑے بڑے شہر ہیں، لیکن کراچی جیسا شہر شاید کہیں اور نہیں۔ حالات جیسے بھی ہوں، مشکلات کتنی ہی کیوں نہ ہوں، پریشانیاں کتنی ہی بڑھ جائیں، یہ شہر اپنی جوانی پر قائم رہتا ہے۔ رواں دواں رہتا ہے۔ یہاں کے لوگ ہر حال میں خوش رہنا جانتے ہیں، مشکل حالات میں سروائیو کرنا جانتے ہیں اور اپنے مسائل کا راستہ نکالنا بھی جانتے ہیں۔

شاید یہی کراچی کی اصل خوبصورتی ہے۔

یہ شہر لوگوں کو روزگار دیتا ہے، انہیں اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے، مختلف علاقوں، زبانوں اور پس منظر سے آنے والے لوگوں کو اپنے دامن میں جگہ دیتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، اس شہر کے لوگوں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ آج بھی زندہ ہے۔

اسی جذبے کا ایک خوبصورت مظاہرہ آج ہمیں کراچی کے مضافات میں دیکھنے کو ملا۔

آئی کیمپ، خدمت کا ایک مستقل سفر

گلشنِ معمار سے آگے ایک بستی میں ہمارا آئی کیمپ تھا۔ الحمدللہ، یہ آئی کیمپ پروجیکٹ گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے اور ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ اس ایک کیمپ میں تقریباً دو سے تین سو افراد کی آنکھوں کی اسکریننگ اور مکمل چیک اَپ کیا جاتا ہے۔ ضرورت مند مریضوں کو ادویات اور عینکیں فراہم کی جاتی ہیں، آنکھوں کے مختلف مسائل کی تشخیص کی جاتی ہے، اور جن مریضوں کو مزید علاج یا آپریشن کی ضرورت ہو، خصوصاً موتیے کے مریضوں کو، انہیں ریفر کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد انہیں ہمارے ہسپتال لایا جاتا ہے، جہاں ان کے ضروری ٹیسٹ اور آپریشن کا انتظام کیا جاتا ہے۔

اس مرتبہ بھی کیمپ بہت اچھا رہا۔ سب سے خوش آئند بات مقامی لوگوں کا تعاون تھا۔ انہوں نے بھرپور ساتھ دیا۔ جب آپ لوگوں کو کسی نیک کام اور کسی ضرورت مند کی مدد کے لیے پکارتے ہیں تو لوگ آگے بڑھ کر مدد کرتے ہیں۔ یہی جذبہ کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت ہوتا ہے، اور شاید یہی وہ چیز ہے جو کراچی کو ممتاز کرتی ہے۔

ایک میاں بیوی کی دعائیں

کیمپ میں کچھ وقت گزارنے کے بعد میری ملاقات چند مریضوں سے بھی ہوئی۔ ان میں ایک میاں بیوی خصوصی طور پر مجھ سے ملنے آئے۔ دونوں فالج کے باعث شدید مشکلات کا شکار تھے۔ کچھ عرصہ پہلے البواب فاؤنڈیشن کے ذریعے ان کی آنکھوں کا آپریشن کروایا گیا تھا۔ آپریشن کے بعد ان کی زندگی میں ایک واضح بہتری آئی، وہ اپنی روزمرہ زندگی کچھ زیادہ معمول کے مطابق گزارنے کے قابل ہوئے۔

آج وہ صرف شکریہ ادا کرنے نہیں آئے تھے، بلکہ اپنی دعائیں دینے آئے تھے۔

ان کی آنکھوں میں شکرگزاری تھی، الفاظ میں محبت تھی اور دعاؤں میں وہ خلوص تھا جو شاید کسی بھی خدمت کا سب سے بڑا صلہ ہے۔ ایسے لمحات انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ اگر ہماری کسی چھوٹی سی کوشش سے کسی انسان کی زندگی میں آسانی آ جائے تو اس سے بڑی خوشی اور کیا ہو سکتی ہے۔

سو سلائی مشینیں، سو امیدیں

دوپہر کو ظہر کی نماز کے بعد ہم سراب گوٹھ سے آگے، سپر ہائی وے سے بھی آگے ایک بستی میں گئے۔ وہاں سو سلائی مشینیں تقسیم کرنے کا پروگرام تھا۔

یہ ہمارے وومن ایمپاورمنٹ پروجیکٹ کا حصہ ہے، اور میرے نزدیک یہ بھی ایک انتہائی اہم منصوبہ ہے۔

جس معاشرے میں غربت ہو، جہاں خواتین کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع محدود ہوں، وہاں ایک عورت کو ہنر دینا دراصل پورے خاندان کو سہارا دینا ہے۔ اگر ایک خاتون پڑھی لکھی نہ ہو اور اس کے پاس کوئی ہنر بھی نہ ہو تو اس کے لیے روزگار کے مواقع بہت محدود رہ جاتے ہیں۔ اکثر صورتوں میں گھروں میں کام کرنا ہی واحد راستہ باقی رہ جاتا ہے۔

اسی لیے خواتین کو بااختیار بنانا ضروری ہے، صرف مالی طور پر نہیں بلکہ تعلیم، ہنر، اعتماد اور خود انحصاری کے اعتبار سے بھی۔

سلائی مشین محض ایک مشین نہیں؛ یہ ایک ہنر ہے، ایک ذریعۂ آمدن ہے، ایک خاندان کے لیے سہارا ہے اور ایک عورت کے لیے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا راستہ ہے۔

وہاں خواتین سے ملاقات ہوئی، ان کے ساتھ وقت گزارا، ان کی باتیں سنیں اور ان کے چہروں پر امید دیکھی۔ ان کے ساتھ گزارا ہوا وقت میرے لیے بھی بہت قیمتی تھا۔

اوشن مال کا ایک مختلف منظر

شام تک تقریباً گھر پہنچا۔ کچھ دیر آرام کے بعد دفتر جانا پڑا، وہاں ضروری کام نمٹایا۔ پھر اپنی چند ذاتی ضرورت کی چیزیں خریدنے کے لیے اوشن مال چلا گیا۔

لیکن وہاں ایک اور منظر نے سوچنے پر مجبور کیا۔

دکانیں خاصی خالی تھیں۔ چند دکانداروں سے بات ہوئی تو انہوں نے شکایت کی کہ اس مرتبہ اگست کی چھٹیوں میں بیرونِ ملک سے آنے والے لوگوں کی تعداد کم رہی۔ برطانیہ، یورپ اور امریکہ سے جو لوگ عام طور پر پاکستان آتے ہیں، اس مرتبہ ان کی آمد کم رہی، جس کی وجہ سے کاروبار اور سیل بھی متاثر ہوئی۔

یہ یقیناً ایک تشویش کی بات ہے۔

آخر ایسا کیوں ہوا؟ لوگ کیوں کم آئے؟ اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں؟ کیا معاشی حالات، سفری مشکلات، سیکیورٹی، اعتماد کی کمی یا کوئی اور وجہ ہے؟

یہ ایسے سوالات ہیں جن پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے، کیونکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نہ صرف اپنے خاندانوں سے ملنے آتے ہیں بلکہ پاکستان کی معیشت میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

پانچ دن، بہت سے احساسات

خیر، رات گھر واپس آیا۔ کچھ وقت گھر والوں کے ساتھ گزارا، پھر سفر کی تیاری اور پیکنگ مکمل کی۔ یوں دن بھر کی مصروفیات کے بعد رات گزری اور بدھ کی صبح فلائٹ لے کر دوبارہ لندن پہنچ گیا۔

یہ تھے میرے پاکستان میں پانچ دن۔

پانچ دن، جو بظاہر بہت مختصر تھے، لیکن اپنے اندر بہت کچھ سمیٹے ہوئے تھے۔

کراچی کا موسم، شہر کی رونق، لوگوں کی محبت، مریضوں کی دعائیں، آئی کیمپ میں خدمت، خواتین کے لیے روزگار اور خود انحصاری کی ایک کوشش، مقامی لوگوں کا تعاون، اور ساتھ ہی کچھ ایسے سوالات جو دل و دماغ میں چھوڑ آئے۔

کراچی، اپنی تمام مشکلات کے باوجود

پاکستان آنا ہمیشہ صرف ایک سفر نہیں ہوتا۔ یہ اپنے لوگوں سے ملنے، ان کے مسائل کو قریب سے دیکھنے، کچھ کرنے کی کوشش کرنے اور پھر بہت کچھ سوچتے ہوئے واپس آنے کا نام بھی ہے۔

اور کراچی…

یہ شہر جتنا بھی تھکا ہوا ہو، جتنا بھی مشکلات میں گھرا ہو، یہ چلتا رہتا ہے۔

یہ شہر رکنا نہیں جانتا۔

یہی کراچی کی خوبصورتی ہے، یہی اس کی طاقت ہے، اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی چاشنی بھی ہے۔

Pakistan: Five Days, Five Stories

Part Six: Saturday – A City, Service and Many Prayers

Mufti Abdul Wahab

Karachi Never Stops

Saturday was my fifth day in Pakistan, and once again Karachi was full of its familiar energy.

There are many great cities in the world, but Karachi has a character of its own. Whatever the difficulties, the city keeps moving. Its people know how to survive, adapt and help one another. Perhaps that is one of Karachi’s greatest strengths.

Eye Camp and a Couple’s Duas

Our first visit was to an eye camp on the outskirts of Karachi, where hundreds of people receive free eye screening, medicines and glasses. Those requiring further treatment, particularly cataract surgery, are referred to our hospital.

I also met a husband and wife who had previously received eye treatment through Al-Wahab Foundation. Both were already facing serious health difficulties, but their treatment had brought some ease back into their daily lives.

They had come not only to say thank you, but to give their duas. Moments like these remind us that bringing even a little ease into someone’s life can be one of the greatest rewards of service.

100 Sewing Machines, 100 Opportunities

After Zuhr, we travelled to another community where 100 sewing machines were distributed as part of our women’s empowerment work.

For a woman with limited education or employment opportunities, a sewing machine can become much more than a piece of equipment. It can provide a skill, an income, greater confidence and support for an entire family.

Empowerment should not only mean financial assistance. It should mean giving people the skills and opportunities to become self-reliant.

Questions About the Economy

Later in the evening, I visited Ocean Mall and noticed that many shops were unusually quiet. Some shopkeepers told me that fewer overseas Pakistanis had visited during the summer holidays, affecting sales and business.

It left me with an important question: why are fewer overseas Pakistanis choosing to visit? Whether the reasons are economic, related to travel, security or confidence, this is something worth examining seriously.

Five Days, Many Reflections

By the end of the journey, these five days had given me much to reflect upon: the energy of Karachi, the prayers of patients, community service, opportunities for women and the generosity of ordinary people.

Pakistan is never simply a destination for me. It is a place where I reconnect with people, witness their struggles, try to contribute where I can and return home carrying many thoughts and prayers.

And Karachi, despite all its challenges, continues to move forward.

This city simply does not know how to stop.