مفتی عبدالوہاب

پاکستان میں گزارا ہوا اگلا دن جمعۃ المبارک کا تھا۔ جمعہ کا دن ویسے ہی اپنی برکت، عظمت اور روحانی کیفیت کے اعتبار سے خاص ہوتا ہے، لیکن میرے لیے اس دن کی اہمیت کچھ اور بھی بڑھ گئی تھی۔
جب بھی پاکستان آتا ہوں، کوشش کرتا ہوں کہ کچھ وقت اپنی والدہ محترمہ کی قبر پر ضرور گزاروں۔ فاتحہ پڑھتا ہوں، دعا کرتا ہوں اور قبرستان کی خاموش فضا میں بیٹھ کر آخرت کو یاد کرتا ہوں۔
اس روز بھی صبح کے وقت قبرستان پہنچا۔ اپنی والدہ محترمہ کی قبر کے سرہانے بیٹھا، آنکھیں بند کیں اور خاموش ہو گیا۔
چند لمحے گزرے تو ایسا محسوس ہوا جیسے وقت رک گیا ہو۔
شعور کی عمر سے لے کر والدہ محترمہ کی حیات کے آخری ایام تک، ان کے ساتھ گزارا ہوا پورا ماضی ایک فلم کی طرح میرے ذہن کے پردے پر چلنے لگا۔ ان کی محبت، شفقت، غصہ، پیار، ڈانٹ، ناراضی اور پھر محبت سے راضی ہو جانا۔۔۔ سب کچھ ایک ایک کرکے یاد آنے لگا۔
یاد آیا کہ کس طرح وہ مجھے پڑھنے پر مجبور کرتی تھیں، کس طرح میرے مستقبل کے لیے فکر مند رہتی تھیں اور کس طرح کہتی تھیں کہ تم نے پڑھنا ہے، عالم بننا ہے، حافظ بننا ہے۔
ان کی وہ ڈانٹ بھی آج محبت محسوس ہوتی ہے، جو اس وقت شاید ڈانٹ ہی لگتی تھی۔
قبر کے سرہانے بیٹھے ہوئے چند منٹوں میں یوں لگا جیسے پوری زندگی دوبارہ میرے سامنے آ گئی ہو۔
غم اس بات کا تھا کہ میری ماں آج جسمانی طور پر میرے ساتھ نہیں ہیں، لیکن دل میں ایک عجیب سا اطمینان بھی تھا۔ وہ ایک انتہائی سادہ زندگی گزارنے والی، صبر و شکر کرنے والی اور باہمت خاتون تھیں۔ انہوں نے ہم بھائیوں کی تربیت کی، ہمیں پڑھایا لکھایا، پروان چڑھایا اور ہر مشکل وقت میں ہمارا حوصلہ بڑھایا۔
مجھے آج بھی محسوس ہوتا ہے کہ ان کی دعائیں میرے ساتھ چل رہی ہیں۔
میری والدہ مجھے بہت پیار سے “میرا چاند” کہا کرتی تھیں۔ شاید یہ ان کی محبت تھی، شاید دعا تھی۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ میرا چاند اندھیروں کو دور کرے گا اور روشنی پھیلائے گا۔
آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شاید ان کی اس دعا کو بھی قبول فرمایا۔ اگر میری زندگی میں کچھ روشنی ہے، اگر مجھے لوگوں کے لیے کچھ کرنے کی توفیق مل رہی ہے، تو میں اسے اپنی ماں کی دعاؤں اور تربیت کی برکت سمجھتا ہوں۔
اگر آج وہ زندہ ہوتیں تو شاید مجھ پر فخر کرتیں، اور یہ خیال میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔
اللہ تعالیٰ میری والدہ محترمہ پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے اور دنیا کی تمام ماؤں کو سلامت رکھے۔ واقعی، مائیں عظیم ہوتی ہیں۔
قبرستان سے واپس آیا، گھر گیا، تیار ہوا اور جمعہ پڑھانے کے لیے روانہ ہوا۔
جمعہ کی نماز کے بعد ایک انتہائی عزیز دوست کے ہاں جنازے میں شرکت کے لیے ڈیفنس کی طوبیٰ مسجد پہنچا۔ ان کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ جنازے میں شرکت نے زندگی اور موت کی حقیقت کو ایک بار پھر بالکل قریب لا کھڑا کیا۔
ایک طرف ماں کی قبر پر بیٹھ کر اپنی زندگی کے ماضی کو یاد کیا تھا، اور دوسری طرف ایک جنازے میں کھڑے ہو کر یہ حقیقت سامنے تھی کہ یہ زندگی بہرحال ایک دن ختم ہو جانی ہے۔
جنازے کے بعد میرا اگلا پڑاؤ کراچی کا ایک ڈسیبلٹی سینٹر تھا۔
وہاں جسمانی طور پر معذور بچوں کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔ ان بچوں کو دیکھا، ان سے ملا اور ان کے ساتھ وقت گزارا۔ ان کی جسمانی مشکلات اپنی جگہ، لیکن ان کے حوصلے، ذہنی صلاحیت اور زندگی کے ساتھ ان کا عزم دیکھ کر دل خوش بھی ہوا اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور بھی۔
وہیل چیئرز تقسیم کی گئیں اور ان بچوں کے چہروں پر خوشی دیکھی۔
جاوید صاحب، بابر، ریحان، صائمہ علی صاحبہ اور ڈاکٹر سمیعہ سمیت جو لوگ ان بچوں کے لیے جس اخلاص، محبت اور جذبے کے ساتھ کام کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے اور ان کی اس خدمت کو قبول فرمائے۔
یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر میں ان شاء اللہ ایک الگ اور تفصیلی کالم لکھوں گا، کیونکہ اس موضوع کا حق ایک مختصر تحریر میں ادا نہیں ہو سکتا۔
لیکن اس دن ان بچوں کے درمیان بیٹھ کر میرے ذہن میں ایک خیال ضرور آیا۔
اگر جسمانی مشکلات کا شکار یہ لوگ اتنے حوصلے کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں، آگے بڑھ سکتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا استعمال کر سکتے ہیں، تو ہم جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صحت مند جسم رکھتے ہیں، ہماری ذمہ داری تو کہیں زیادہ بنتی ہے۔
ہمیں اپنے معاشرے کے لیے بہت کچھ کرنا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سے افراد کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ انہیں صرف ہمدردی نہیں چاہیے؛ انہیں مواقع، سہارا، عزت، محبت اور برابری چاہیے۔
ان شاء اللہ، اس موضوع پر اگلے کالم میں تفصیل سے بات کروں گا۔
جمعہ کا دن اسی طرح گزرتا رہا۔ عصر کی نماز پڑھی، پھر دفتر گیا اور وہاں کچھ وقت گزارا۔
شام ہوئی تو میری چھوٹی بہن میرا انتظار کر رہی تھیں۔
بہن کی محبت بھی عجیب نعمت ہے۔
میری چھوٹی بہن کے چہرے میں مجھے اپنی والدہ کا عکس نظر آتا ہے۔ جب کبھی دل اپنی ماں کا چہرہ دیکھنے کو چاہتا ہے تو مجھے اپنی دونوں بہنوں کے چہروں میں اپنی ماں کی جھلک دکھائی دیتی ہے، لیکن میری چھوٹی بہن تو جیسے اپنی ماں کی بالکل تصویر ہے۔
جب بھی میں پاکستان جاتا ہوں، وہ میرا ساتھ نہیں چھوڑتی۔ ہر وقت میرے ساتھ رہنے کی کوشش کرتی ہے۔ میری پسند کی کوئی نہ کوئی ڈش محبت سے ضرور بناتی ہے اور پھر اسی محبت سے مجھے کھلاتی ہے۔
اس کی بچیاں اور اس کے شوہر بھی انتہائی محبت اور خلوص سے پیش آتے ہیں۔ اپنوں کے پاس بیٹھ کر، ان کے ساتھ کھانا کھا کر، چند لمحے ہنس بول کر انسان کی دن بھر کی تھکن جیسے خود بخود اتر جاتی ہے۔
شاید یہی اپنوں کی اصل خوبصورتی ہے۔
کبھی کبھی انسان کو سکون کے لیے کسی بڑے سفر، کسی خوبصورت مقام یا کسی خاص چیز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بس اپنے لوگ پاس بیٹھے ہوں تو دل بھر جاتا ہے۔
میں جب بھی اپنی ماں کا چہرہ دیکھنا چاہتا ہوں، مجھے اپنی دونوں بہنوں کے چہروں میں اپنی ماں کا چہرہ نظر آتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ماں ہم سے دور ہو کر بھی کہیں نہ کہیں ہمارے درمیان موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ میری دونوں بہنوں کو سلامت رکھے، ان کے گھروں کو آباد رکھے، ان کی اولادوں کو خوش رکھے اور ان کے دلوں کو ہمیشہ محبتوں سے بھرپور رکھے۔
ایک دن، کئی احساسات
رات گئے جب واپسی ہوئی تو دل میں ایک عجیب سی کیفیت تھی۔
ایک ہی دن میں ماں کی قبر کے سرہانے بیٹھ کر ماضی کو دوبارہ جیا، جنازے میں کھڑے ہو کر موت کی حقیقت کو محسوس کیا، معذور بچوں کے درمیان بیٹھ کر زندگی کے حوصلے کو دیکھا، اور پھر بہن کے گھر بیٹھ کر رشتوں کی محبت، اپنائیت اور ماں کی یاد کو محسوس کیا۔
ماں کی قبر، جمعہ کی برکت، چند روشن چہرے اور بہن کی محبت۔۔۔
پاکستان میں گزارا ہوا یہ چوتھا دن میرے لیے محض ایک دن نہیں تھا، بلکہ یادوں، دعاؤں، موت، زندگی، خدمت اور رشتوں کا ایک ایسا سفر تھا جس نے دل کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا۔
اور آخر میں دل سے صرف یہی دعا نکلی:
یا اللہ! میری ماں پر اپنی رحمتیں نازل فرما، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کی دعاؤں کا سایہ ہم پر ہمیشہ قائم رکھ، میری بہنوں کو سلامت رکھ اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زندگی کو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں صرف کر سکیں۔
آمین۔
(جاری ہے ۔۔۔۔۔)
Mufti Abdul Wahab
Friday in Pakistan began with a visit to my late mother’s grave. Whenever I return to Pakistan, I try to spend some time there, recite Fatiha, make dua and reflect on life and the Hereafter.
Sitting beside her grave brought back countless memories. I remembered her love, her discipline, her concern for my education and the way she always encouraged me to learn and move forward.
She used to call me lovingly, “my moon,” and would say that her moon would remove darkness and spread light. If Allah has allowed me to bring any benefit to others today, I consider it a blessing of my mother’s duas and upbringing.
Later, after Jumu’ah, I attended the funeral of the wife of a close friend. The day had already begun with memories of my mother, and now another funeral brought the reality of life and death even closer.
From there, I visited a disability centre in Karachi and spent time with children facing physical challenges. Wheelchairs were distributed, but what stayed with me most was their courage, intelligence and determination.
They reminded me that people with disabilities do not need sympathy alone. They need dignity, opportunities, support and equality.
In the evening, I spent time with my younger sister. In both my sisters, and especially in her, I often see the reflection of my mother. Her love, care and warmth make me feel that somehow a part of my mother still remains with us.
It had been a day filled with very different emotions: memories of my mother, the reality of death, the courage of children and the comfort of family.
My final prayer was simple:
O Allah, shower Your mercy upon my mother, fill her grave with light, protect my sisters, and grant us the ability to spend our lives bringing ease to others.
Ameen.
(To be continued…..)