
انسان جب اپنے شہر کی گلیوں، اپنے وطن کی سرحدوں اور اپنے ماحول کے حصار میں زندگی گزارتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری دنیا کا نقشہ یہی ہے۔ اس کی نگاہیں انہی مناظر کی اسیر، اس کے خیالات انہی روایات کے پابند اور اس کے فیصلے انہی تجربات کے مرہونِ منت رہتے ہیں۔ مگر جب وہ اپنے قدم وطن کی حدود سے باہر نکالتا ہے تو اس پر ایک نئی دنیا کے در کھلتے ہیں۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو ایک ہی رنگ میں نہیں، بلکہ بے شمار رنگوں، تہذیبوں، زبانوں، مزاجوں اور تمدنوں، اور تاریخوں سے آراستہ کیا ہے۔
میں دنیا کے مختلف ممالک کا سفر صرف اس لیے نہیں کرتا کہ نئی عمارتیں دیکھوں، مشہور مقامات کی تصاویر کشی کروں، یا چند دن کی تفریح کے بعد واپس آجاؤں۔ میرا سفر محض آنکھوں کی سیاحت نہیں، بلکہ دل کی تربیت اور عقل کی بیداری کا سفر ہوتا ہے۔ میں زمین کے فاصلے نہیں ناپتا، میں انسان کے تجربات، قوموں کے عروج و زوال اور تہذیبوں کے اسرار پڑھنے نکلتا ہوں۔
ہر ملک میرے لیے ایک زندہ کتاب ہے، جس کے صفحات اینٹوں، پتھروں اور سڑکوں سے نہیں، بلکہ وہاں کے لوگوں کے کردار، ان کے نظم و ضبط، ان کی محنت، ان کے خواب، ان کی ناکامیوں اور ان کی کامیابیوں سے لکھے گئے ہیں۔ جو شخص ان کتابوں کو پڑھ لیتا ہے، اس کی بصیرت میں وسعت آجاتی ہے اور اس کی سوچ میں ایک مثبت تبدیلی رونما ہوتی ہے۔
سفر مجھے یہ سکھاتا ہے کہ دنیا صرف میرے تصور کا نام نہیں۔ کہیں وقت کی پابندی قوم کی روح بن چکی ہے، کہیں دیانت داری تجارت کی جان ہے، کہیں قانون فرد سے زیادہ طاقتور ہے، کہیں علم کو سب سے بڑی دولت سمجھا جاتا ہے، اور کہیں ایک معمولی کارکن کو بھی وہ عزت دی جاتی ہے جس کی تمنا بہت سے معاشروں میں ایک عالم یا دانش ور بھی کرتا رہ جاتا ہے۔
مختلف تہذیبوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ لباس بدل جاتے ہیں، زبانیں بدل جاتی ہیں، کھانے اور رہن سہن کے انداز بدل جاتے ہیں، لیکن انسان کا دل ہر جگہ ایک ہی چیز کا طلب گار ہے: محبت، عزت، امن اور اطمینان۔
قرآنِ مجید نے محض عبادت ہی کی دعوت نہیں دی، بلکہ مشاہدے اور غور و فکر کی بھی دعوت دی ہے:
قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُو
“کہہ دیجیے! زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو…”
رسول اللہ ﷺ نے بھی مختلف علاقوں کا سفر فرمایا، مختلف قبائل سے ملاقات کی، مختلف مزاج کے لوگوں کو سمجھا، اور انسانیت تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔ اسلام نے سفر کو علم، تجربے اور دعوت کا ذریعہ بنایا، محض تفریح کا نہیں۔
سفر کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان دوسروں کی خوبیوں سے سیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ ترقی صرف وسائل سے نہیں، بلکہ نظم، دیانت، وقت کی قدر، مسلسل محنت اور اجتماعی شعور سے حاصل ہوتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کے سنہری ادوار میں سفر علم کا لازمی حصہ تھا۔ محدث ہزاروں میل صرف ایک حدیث سننے کے لیے طے کرتے تھے، فقہاء مختلف علاقوں کا رخ کرتے تاکہ نئے مسائل کو سمجھ سکیں، اور تاجر اپنے حسنِ اخلاق کے ذریعے ان سرزمینوں تک اسلام کا نور پہنچاتے جہاں کبھی کوئی لشکر نہیں پہنچا تھا۔ ان کے سفر نے صرف راستے نہیں بنائے، بلکہ دلوں کے دروازے کھولے۔
سفر انسان کو یہ بھی سکھاتا ہے کہ قومیں نعروں سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں؛ ترقی خواہشوں سے نہیں، مسلسل محنت سے حاصل ہوتی ہے؛ اور عزت دوسروں پر تنقید سے نہیں، بلکہ اپنے آپ کو بہتر بنانے سے ملتی ہے۔
میں جب کسی ملک سے واپس لوٹتا ہوں تو میرے سامان میں کپڑوں اور تحفوں سے زیادہ تجربات ہوتے ہیں، میری آنکھوں میں تصویروں سے زیادہ عبرت کے مناظر ہوتے ہیں، اور میرے دل میں یادگاروں سے زیادہ دعائیں ہوتی ہیں۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ ہر سفر نے میری سوچ میں کسی نئے دریچے کو کھولا اور میرے ایمان میں اللہ کی قدرت کے ایک نئے جلوے کا اضافہ کیا۔
میں یہی کہوں گا کہ میں دنیا کے مختلف ممالک کا سفر تصویریں جمع کرنے کے لیے نہیں کرتا، بلکہ تجربے جمع کرنے کے لیے کرتا ہوں؛ یادگاریں خریدنے کے لیے نہیں، بلکہ حکمتیں حاصل کرنے کے لیے کرتا ہوں؛ نئی جگہیں دیکھنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی سوچ کو وسیع کرنے کے لیے کرتا ہوں۔
کیونکہ بعض اوقات ایک سفر انسان کو وہ سبق دے جاتا ہے، جو سینکڑوں کتابیں بھی نہیں دے پاتیں۔
Mufti Abdul Wahab
Travelling beyond the familiar surroundings of one’s own city and country opens the mind to a much wider world. You begin to see how Allah Almighty has created people with different languages, cultures, traditions and ways of life.
For me, travel is not simply about visiting famous places or taking photographs. It is a journey of learning. Every country is like a living book, teaching lessons through its people, their discipline, their work ethic, their successes and their struggles.
Travel has taught me that progress is not achieved by slogans or resources alone. Visiting different countries, I have seen how much difference simple things such as honesty, punctuality, discipline, knowledge and consistent effort can make to everyday life. I have also seen that, despite differences in culture, language and lifestyle, people everywhere ultimately seek the same basic things: dignity, peace, respect and happiness.
The Qur’an encourages us to travel, observe and reflect:
قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا
“Say: Travel through the earth and observe…”
Muslim history also shows how travel was once an essential part of seeking knowledge and spreading Islam. Scholars travelled great distances for knowledge, while traders reached distant lands through their honesty and good character.
Whenever I return from a journey, I feel that I bring back more than photographs and souvenirs. I return with experiences, lessons and a broader understanding of the world.
I travel not just to see new places. I travel to widen my thinking, learn from others and reflect on the signs of Allah.
Sometimes, one journey can teach a person what hundreds of books cannot.