Tunnel of Hope: The Passage That Kept Sarajevo Alive - Part 3

ٹنل آف ہوپ: امید کی سرنگ

مفتی عبدالوہاب

tunnel of hope

سرائیوو میں پہلا دن

الحمدللہ، دوپہر کے قریب ہماری فلائٹ سرائیوو پہنچی۔ ہوٹل میں چیک اِن دو بجے تھا، اس لیے ہم نے سوچا کہ اس وقت کو ضائع کرنے کے بجائے شہر کو سمجھنے میں لگایا جائے۔ اولڈ سٹی گئے، ظہر کی نماز ادا کی، دوپہر کا کھانا کھایا اور پھر ہوٹل واپس آگئے۔

ہمارے کچھ ساتھی بعد کی فلائٹ سے پہنچ رہے تھے۔ انہیں ساتھ لیا اور تقریباً ساڑھے تین بجے ہم Tunnel of Hope کی طرف روانہ ہوئے۔

وہاں پہنچ کر فوراً احساس ہوا کہ یہ محض ایک سرنگ نہیں، بلکہ ایک پورے شہر کی بقا، مزاحمت اور امید کی داستان ہے۔

یوگوسلاویہ کے بکھرنے سے بوسنیا کی جنگ تک

اس سرنگ کی اہمیت سمجھنے کے لیے سابق یوگوسلاویہ کی تاریخ کو سمجھنا ضروری ہے۔ سوشلسٹ یوگوسلاویہ چھ جمہوریاؤں، بوسنیا و ہرزیگووینا، کروشیا، مقدونیہ، مونٹی نیگرو، سربیا اور سلووینیا پر مشتمل ایک وفاق تھا۔

مارشل ٹیٹو کے 1980ء میں انتقال کے بعد سیاسی اور معاشی مشکلات بڑھنے لگیں اور مختلف علاقوں میں قوم پرستی مضبوط ہوتی گئی۔ 1991ء میں سلووینیا اور کروشیا نے آزادی کا اعلان کیا تو یوگوسلاویہ تیزی سے بکھرنے لگا۔

بوسنیا میں 29 فروری اور یکم مارچ 1992ء کو آزادی کے لیے ریفرنڈم ہوا۔ ووٹ ڈالنے والوں کی بھاری اکثریت نے آزاد بوسنیا کے حق میں فیصلہ دیا، جبکہ زیادہ تر بوسنیائی سربوں نے اس کا بائیکاٹ کیا۔ بوسنیاک مسلمانوں کے لیے یہ اپنی شناخت، وطن اور ایک مشترکہ کثیرالمذہبی ریاست کے مستقبل کا سوال تھا۔ دوسری جانب بوسنیائی سرب قیادت نے آزادی کی مخالفت کی اور سربیا کی نمایاں حمایت کے ساتھ مختلف علاقوں پر قبضے کی جنگ شروع ہوگئی۔

یوں سیاسی بحران ایک خوفناک جنگ میں تبدیل ہوگیا، جس میں بڑے پیمانے پر قتل، جبری بے دخلی اور نسل کشی جیسے المناک واقعات پیش آئے۔

1425 دن کا محاصرہ

5 اپریل 1992ء کو سرائیوو کا طویل محاصرہ شروع ہوا۔

سرائیوو چاروں طرف پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔ بوسنیائی سرب افواج نے بلند مقامات سے شہر کو گھیر لیا۔ گولہ باری اور اسنائپر فائر روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئے۔ لوگ پانی لینے نکلتے، روٹی کے لیے قطار میں کھڑے ہوتے یا اپنے بچوں کے ساتھ سڑک پار کرتے تو بھی جان محفوظ نہ ہوتی۔

یہ محاصرہ 29 فروری 1996ء تک، یعنی 1425 دن جاری رہا۔ سرائیوو کے سرکاری یادگاری اعداد کے مطابق اس عرصے میں 11,541 افراد جان سے گئے، جن میں 1,601 بچے بھی شامل تھے۔

ذرا تصور کیجیے، تقریباً چار برس ایک پورا شہر محاصرے میں ہو۔ بجلی محدود، خوراک اور ادویات کی قلت، باہر نکلنے پر اسنائپر کا خوف اور ہر لمحہ یہ اندیشہ کہ اگلا گولہ کہاں گرے گا۔

بوسنیائی مسلمانوں اور دیگر شہریوں کے لیے یہ صرف ایک فوجی جنگ نہیں رہی تھی، یہ زندگی اور بقا کا سوال بن چکی تھی۔

زمین کے نیچے زندگی کا راستہ

اسی محاصرے کے دوران 1993ء میں ایک ایسا منصوبہ بنایا گیا جس نے سرائیوو کی تاریخ بدل دی۔

شہر کے ایک طرف Dobrinja اور دوسری جانب Butmir تھا، جبکہ درمیان میں سرائیوو ایئرپورٹ تھا، جو اقوام متحدہ کے انتظام میں تھا۔ بوسنیائی فورسز نے ایئرپورٹ کے رن وے کے نیچے ایک خفیہ سرنگ کھود کر دونوں علاقوں کو جوڑ دیا۔

یہی سرنگ بعد میں Tunnel of Hope، Tunnel of Salvation اور بوسنیائی زبان میں Tunel Spasa کے نام سے مشہور ہوئی۔

یہ تقریباً 800 میٹر طویل، قریب ڈیڑھ میٹر بلند اور تقریباً ایک میٹر چوڑی تھی۔ بعد میں اس کے اندر چھوٹی ریل اور ٹرالیاں لگائی گئیں، بجلی اور ٹیلی فون کی تاریں گزاری گئیں اور ایندھن کے لیے پائپ لائن بھی بچھائی گئی۔

خوراک، ادویات، ضروری سامان اور لوگ اسی تنگ راستے سے شہر کے اندر اور باہر آتے جاتے تھے۔ بعض اوقات ایک دن میں ہزاروں افراد اس سے گزرتے تھے۔ جولائی 1993ء سے محاصرے کے اختتام تک یہ سرائیوو کا بیرونی دنیا سے ایک نہایت اہم رابطہ بنا رہا۔

آج ہم اس سرنگ کے ایک حصے میں چند منٹ چلتے ہیں، مگر اُس دور میں یہی چند سو میٹر بہت سے لوگوں کے لیے زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ تھے۔

جب زمین کے اوپر راستے بند ہوں

وہاں کھڑے ہوکر میرے ذہن میں ایک خیال بار بار آتا رہا۔

انسان جب اپنے چاروں طرف راستے بند دیکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کبھی کبھی اس کے لیے زمین کے نیچے بھی راستہ پیدا کردیتا ہے۔

اس سرنگ کو بنانے والوں کے پاس جدید مشینری یا بڑی سہولتیں نہیں تھیں۔ محدود وسائل، ہاتھوں اور بیلچوں کے ذریعے زمین کھودی گئی، کیونکہ دوسری طرف ایک پورا شہر سانس لینے کے لیے راستہ مانگ رہا تھا۔

شاید اسی لیے اسے امید کی سرنگ کہا جاتا ہے۔

تاریخ جو صرف پڑھی نہیں، محسوس کی جاتی ہے
آج سرائیوو ایک خوبصورت اور زندہ شہر ہے۔ بازار آباد ہیں، مسجدوں میں اذانیں سنائی دیتی ہیں، کیفے بھرے ہوئے ہیں اور نئی نسل اپنے مستقبل کی طرف دیکھ رہی ہے۔

لیکن اسی شہر کی زمین کے نیچے موجود یہ سرنگ یاد دلاتی ہے کہ آج کا سکون اور رونق بہت بڑی قربانیوں کے بعد واپس آئی ہے۔

یہاں تاریخ صرف کتابوں میں نہیں پڑھی جاتی، اسے محسوس کیا جاتا ہے۔

میرے لیے Tunnel of Hope کا سب سے بڑا سبق یہی تھا کہ مشکل کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، امید کا ایک چھوٹا سا راستہ بھی کبھی کبھی پوری قوم کو زندہ رکھ سکتا ہے۔

ان شاء اللہ بوسنیا کے اس سفر میں جنگ کی دوسری یادگاروں، یہاں کے مسلمانوں، سرائیوو کی تاریخ اور ان لوگوں کی کہانیوں کے بارے میں بھی لکھتا رہوں گا جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑا۔

Tunnel of Hope: The Passage That Kept Sarajevo Alive

Mufti Abdul Wahab

Our First Day in Sarajevo

We arrived in Sarajevo around midday. As our hotel check-in was later, we used the time to visit the Old City, pray Zuhr and have lunch. After meeting the rest of our group, we set off for the Tunnel of Hope.

Standing there, I realised this was not simply a tunnel. It was a story of survival, courage and hope.

From Yugoslavia to the Bosnian War
Former Yugoslavia was a federation of six republics: Bosnia and Herzegovina, Croatia, Macedonia, Montenegro, Serbia and Slovenia.

After Marshal Tito died in 1980, political and economic problems grew and nationalism became stronger. Slovenia and Croatia declared independence in 1991.

Bosnia held an independence referendum on 29 February and 1 March 1992. Most of those who voted supported independence, while many Bosnian Serbs boycotted it. For Bosniaks, independence was about protecting their homeland, identity and the future of a multi-religious Bosnia. The political crisis soon turned into a devastating war.

Sarajevo Under Siege

The siege of Sarajevo began on 5 April 1992 and lasted 1,425 days, until 29 February 1996.

The city was surrounded from the hills. Shelling and sniper fire became part of everyday life. People risked their lives simply to collect water, find food or cross a street.

According to Sarajevo memorial figures, 11,541 people were killed, including 1,601 children.

For the people trapped inside, the war became a struggle simply to survive.

Building the Tunnel of Hope

In 1993, Bosnian forces dug a secret tunnel beneath Sarajevo Airport, connecting Dobrinja and Butmir.

Around 800 metres long, the narrow passage became one of Sarajevo’s most important links with the outside world. Food, medicine, fuel, electricity lines and people passed through it. At times, thousands used it in a single day.

Today we can walk through part of it in a few minutes. During the war, however, those few hundred metres could mean the difference between life and death.

A Lesson in Hope

While standing inside the tunnel, one thought stayed with me: when every road above ground appears closed, Allah can create a way even beneath the earth.

The tunnel was built with limited equipment and enormous determination because an entire city needed a lifeline.

Today Sarajevo is alive again. Its markets are busy, the Adhan is heard from its mosques, cafés are full and a new generation is moving forward. Yet this small tunnel beneath the city reminds us of the sacrifice behind that recovery.

The Tunnel of Hope teaches a powerful lesson: even a small passage of hope can help keep an entire people alive.