Mostar: One Bridge, One City and Many Stories - Part 2

موستار: ایک پل، ایک شہر اور کئی کہانیاں

مفتی عبدالوہاب

Mostar One Bridge, One City and Many Stories

موستار کی طرف ایک خوبصورت سفر

بوسنیا کے سفر کا اگلا مرحلہ موستار تھا۔ راستے میں سبز پہاڑ، وادیاں، نیلے پانی کے دریا اور چھوٹے چھوٹے آباد قصبے ساتھ چلتے رہے۔ بوسنیا کا حسن صرف کسی ایک جگہ تک محدود نہیں، یہاں سفر خود بھی منزل کا حصہ بن جاتا ہے۔

کونیتس، جنگ کی ایک خاموش یادگار

موستار جاتے ہوئے کچھ دیر ہم کونیتس میں رکے۔ یہ چھوٹا سا تاریخی شہر دریائے نیریٹوا کے کنارے آباد ہے اور عثمانی دور کی کئی یادیں اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ یہاں واردا مسجد کا وہ مینار خاص طور پر توجہ کھینچتا ہے جس کا بالائی حصہ 1992ء کی جنگ میں تباہ ہوگیا تھا۔ بعد میں مسجد کی مرمت ہوئی، مگر اسلامی کمیونٹی نے مینار کے ٹوٹے ہوئے حصے کو مکمل بحال نہیں کیا، تاکہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے جنگ کی تباہ کاریوں کی ایک خاموش یادگار رہے۔

مسجد کے عقب میں ایک چرچ موجود ہے جو بالکل درست حالت میں ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مسلمانوں نے مسیحیوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ نہیں بنایا۔

جابلانیتسا جھیل اور ایک یادگار بوٹ ٹور

کونیتس سے آگے سفر میں جابلانیتسا جھیل کا منظر دل موہ لینے والا ہے۔ دریائے نیریٹوا پر بننے والی یہ جھیل پہاڑوں اور گھنے سبزے کے درمیان دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ ہم نے یہاں بوٹ ٹور بھی کیا۔ نیلے پانی پر چلتی کشتی، اردگرد خاموش پہاڑ اور ٹھنڈی ہوا، چند لمحوں کے لیے یوں محسوس ہوا جیسے وقت بھی ہمارے ساتھ آہستہ ہو گیا ہو۔ بوسنیا کی ایک خاص بات یہی ہے کہ یہاں تاریخ کے دردناک ابواب کے ساتھ قدرت کا ایسا حسن موجود ہے جو انسان کو سکون، شکر اور غور و فکر کی طرف لے جاتا ہے۔

بلاگائے تکیہ اور صوفیا کی روایت

اس کے بعد ہم بلاگائے کے تاریخی تکیہ پہنچے، جو دریائے بونا کے چشمے کے بالکل کنارے، ایک بلند چٹان کے نیچے قائم ہے۔ صدیوں سے یہ جگہ درویشوں، ذکر و عبادت اور روحانی تربیت سے وابستہ رہی ہے، اور اس کا ذکر سترھویں صدی کے معروف سیاح اولیا چلبی کے سفرنامے میں بھی ملتا ہے۔
بوسنیا میں صوفیا اور درویشوں نے صرف خانقاہیں قائم نہیں کیں بلکہ مسافروں کی خدمت، ذکر، تعلیم، اخلاق اور مقامی لوگوں کے ساتھ تعلق کے ذریعے اسلامی روایت کو معاشرے میں مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

یوں راستے کے نظاروں سے بھرپور لطف اٹھاتے ہم مستار پہنچ گئے۔

 موستار: پہلی نظر میں

موستار پہنچتے ہی سب سے پہلے دریائے نیریٹوا اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ زمردی رنگ کا پانی، دونوں طرف پتھریلی پہاڑیاں اور ان کے درمیان آباد قدیم شہر، منظر ایسا ہے کہ کچھ دیر انسان صرف خاموش ہو کر دیکھنا چاہتا ہے۔ ایسے لمحات صدیوں کی تھکن اتار دیتے ہیں اور انسان ایک بار پھر خود کو اندر تک تروتازہ محسوس کرتا ہے۔

وہ پل جو شہر کی پہچان بن گیا

موستار کا سب سے مشہور مقام پرانا پل ہے۔ عثمانی دور میں 1566ء میں معمار خیرالدین نے اسے تعمیر کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شہر کا نام بھی اسی پل سے جڑا ہے، موستاری ان لوگوں کو کہا جاتا تھا جو پل کی نگرانی کرتے تھے۔

سن 1993ء کی جنگ میں یہ پل تباہ ہوگیا۔ دریائے نیریٹوا میں گرتے ہوئے اس پل کے ساتھ گویا شہر کی ایک شناخت بھی مٹ گئی تھی۔ بعد میں اسے پرانے طریقوں اور طرزِ تعمیر کو سامنے رکھتے ہوئے دوبارہ تعمیر کیا گیا اور 2004ء میں یہ پھر شہر کے دونوں حصوں کو جوڑنے لگا۔ آج یونیسکو اسے مختلف تہذیبوں کے درمیان بقائے باہمی، تعاون اور مصالحت کی ایک اہم علامت قرار دیتا ہے۔

اس پل کو دیکھ کر میرے ذہن میں مسلسل ایک بات گردش کرتی رہی کہ پل بنانا ہمیشہ دیوار بنانے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ ہم انسانوں کے درمیان دیوار تو فورا کھڑی کردیتے ہیں لیکن ان کو جوڑنے کیلئے پل بننے اور پل کا کردار نبھانے پر مشکل سے ہی راضی ہوتے ہیں۔

خوبصورتی کے پیچھے جنگ کا درد

بوسنیا کی خوبصورتی کے پیچھے ایک گہرا درد بھی چھپا ہے۔ 1992 سے 1995 کی جنگ میں ہزاروں بے گناہ بوسنیائی مسلمان شہید ہوئے، خاندان اجڑ گئے اور بستیاں ویران ہوئیں۔ آج جب انہی شہروں میں زندگی رواں نظر آتی ہے تو دل ان مظلوم شہداء کے لیے دعا بھی کرتا ہے اور اس قوم کے حوصلے کو سلام بھی، جس نے اتنی بڑی آزمائش کے بعد خود کو دوبارہ سنبھالا۔

قدیم بازار اور عثمانی رنگ

پل کے اردگرد موستار کا قدیم بازار ہے۔ پتھر کی گلیاں، چھوٹی دکانیں، تانبے کے برتن، دستکاری، کافی کی خوشبو اور اردگرد بلند ہوتے مسجدوں کے مینار، ایک لمحے کے لیے انسان کو عثمانی دور کی طرف لے جاتے ہیں۔

محمد پاشا مسجد بھی شہر کی اسلامی شناخت کے نمایاں مقامات میں سے ہے، جہاں سے موستار اور پل کا نہایت خوبصورت منظر دکھائی دیتا ہے۔ موستار کی معماری میں عثمانی، بحیرۂ روم اور بعد کے آسٹرو ہنگیرین اثرات ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔

بوسنیا کے مسلمان، ایک منفرد شناخت

مجھے بوسنیا کے مسلمانوں کو قریب سے دیکھنے میں خاص دلچسپی ہے۔ یہ یورپ کے قلب میں بسنے والی ایسی مسلم آبادی ہے جس کی اسلامی شناخت صدیوں پرانی ہے اور اس کے ساتھ ایک مضبوط بوسنیائی اور یورپی تہذیبی رنگ بھی موجود ہے۔

یہاں مسجد بھی زندگی کا حصہ ہے، خاندان بھی، مقامی ثقافت بھی اور کچھ حد تک یورپی طرزِ زندگی بھی۔

جنگ نے ان لوگوں کو بہت کچھ سکھایا اور بہت کچھ چھینا بھی، مگر سب سے متاثر کن بات یہ ہے کہ زندگی رکی نہیں۔ شہر دوبارہ آباد ہوئے، بازار پھر کھلے، مسجدوں میں اذانیں پھر سنائی دیں اور نئی نسل نے اپنے مستقبل کی طرف دیکھنا شروع کیا۔

موستار اسی انسانی حوصلے کی ایک زندہ مثال ہے۔

موستار کے ذائقے

کسی شہر کو سمجھنا ہو تو اس کا کھانا بھی ضرور چکھنا چاہیے۔
یہاں Ćevapi، Burek، Japrak، Dolma اور مختلف گوشت اور سبزیوں کے روایتی کھانے بہت مقبول ہیں۔
کھانے کے بعد چھوٹی سی پیالی میں بوسنیائی کافی، اور ساتھ بکلاوا یا کوئی مقامی مٹھائی، یہاں کی ثقافت کا اپنا لطف رکھتی ہے۔ موستار اور ہرزیگووینا کے کھانوں میں عثمانی، بحیرۂ روم اور بلقان کے ذائقے ایک ساتھ محسوس ہوتے ہیں۔

سفر، مشاہدہ اور شکر

میں خود کو خوش نصیب محسوس کرتا ہوں کہ اللہ تعالی نے مجھ پر احسان کیا اور دنیا کے مختلف ممالک گھمانے کے ساتھ ساتھ ان کی تہذیب و تمدن کو قریب سے جاننے اور سمجھنے کے مواقع بھی عطا کئے۔ الحمدللہ

میرے لیے کسی شہر کی اصل خوبصورتی صرف اس کے پل، بازار یا کھانے نہیں ہوتے۔ شہر کی اصل پہچان اس کے لوگ ہوتے ہیں۔

موستار کو دیکھتے ہوئے بار بار یہی خیال آتا ہے کہ انسان کتنی بڑی تباہی کے بعد بھی دوبارہ گھر بنا سکتا ہے، بازار آباد کرسکتا ہے، پل کھڑا کرسکتا ہے اور زندگی کو آگے لے جاسکتا ہے۔

یہی شاید بوسنیا کے سفر کا سب سے بڑا سبق ہے۔

تاریخ کے زخم اور مستقبل کی امید

یہ سفر ابھی جاری ہے۔ ان شاء اللہ بوسنیا، یہاں کے مسلمانوں، جنگ کی یادوں، تاریخی مساجد، مقامی لوگوں اور ان مقامات کے بارے میں مزید تفصیل سے لکھتا رہوں گا جنہیں ہم اس سفر میں دیکھ رہے ہیں۔

موستار خوبصورت ہے اور اس کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ یہاں تاریخ کے زخم موجود ہونے کے باوجود مستقبل کی امید واضح نظر آتی ہے۔

Mostar: One Bridge, One City and Many Stories

Mufti Abdul Wahab

The Journey to Mostar

The next part of our Bosnia journey took us to Mostar. The road itself was beautiful, with green mountains, valleys, rivers and small towns. In Bosnia, the journey often becomes part of the destination.

On the way, we stopped in Konjic, a historic town beside the Neretva River. One striking sight is the damaged minaret of the Varda Mosque, which still carries the scars of the 1990s war. It stands as a reminder of what this country went through.

A Beautiful Lake and Blagaj Tekke

We then travelled past Jablanica Lake, surrounded by mountains and greenery. Our boat tour there was one of the most peaceful parts of the journey. The blue water, cool air and quiet mountains created a moment of complete calm.

Later, we visited the famous Blagaj Tekke, built beside the source of the Buna River under a high cliff. For centuries, this place has been connected with Sufis, dervishes, worship and spiritual learning.

Sufi teachers and dervishes played an important role in the Islamic history of Bosnia. Through teaching, good character, hospitality and close relationships with local communities, they helped Islamic traditions become established in the region.

First Impressions of Mostar

When we finally reached Mostar, the beautiful Neretva River immediately caught the eye. Its clear green water flows between rocky hills and the historic city.

The most famous landmark is the Old Bridge, Stari Most, originally built in 1566 during the Ottoman period. The bridge was destroyed during the war in 1993 and later rebuilt, reopening in 2004.

Standing there, one thought stayed with me: building bridges is much harder than building walls. We often create divisions between people very quickly, but becoming a bridge that brings people together requires patience and courage.

A City Marked by War

Behind Bosnia’s beauty is a painful history. During the 1992-1995 war, many innocent Bosnian Muslims and other civilians were killed, families were broken apart and communities were destroyed.

Today, seeing life return to these cities makes you remember those who lost their lives, while also appreciating the strength of a nation that rebuilt itself after such suffering.

Ottoman Heritage and Bosnian Muslims

Around the Old Bridge are narrow stone streets, small shops, traditional crafts, copperware and the smell of Bosnian coffee. The mosques and old buildings still carry a strong Ottoman character.

One of the things I find most interesting about Bosnia is its Muslim community. Bosnian Muslims have lived in the heart of Europe for centuries. Their identity combines Islam, Bosnian culture and European life in a unique way.

The war took much from them, but it did not stop life. Cities were rebuilt, markets reopened, the call to prayer continued, and a new generation began looking towards the future.

Mostar is a powerful example of that resilience.

Food, Culture and People

Food is also an important part of understanding any country. Traditional dishes such as Ćevapi, Burek, Japrak and Dolma are very popular here. Bosnian coffee with baklava or another local sweet is also part of the experience.

The food of Mostar and Herzegovina reflects a mixture of Ottoman, Balkan and Mediterranean influences.

I feel very fortunate that Allah has given me opportunities to visit different countries and understand their people, history and cultures more closely. Alhamdulillah.

For me, however, the true beauty of a city is not only in its bridges, markets or food. Its real identity is its people.

Mostar reminds us that even after great destruction, people can rebuild their homes, reopen their businesses, restore their bridges and begin again.

Perhaps that is one of the greatest lessons of Bosnia.

Our journey continues, and InshaAllah I will keep writing about Bosnia, its Muslims, its history, its mosques, its people and the places we visit.

Mostar carries the wounds of history, but it also carries a very visible hope for the future.