The Beauty of Jajce and Travnik - Part 4

اردو مضمون، ویب سائٹ کے لیے ہیڈنگز کے ساتھ

یائیتسے اور ٹراونک کی خوبصورتی

مفتی عبدالوہاب

Historic town of Jajce in Bosnia with its famous waterfall

سفر کا تیسرا دن

آج ہمارے بوسنیا کے سفر کا تیسرا دن تھا۔

ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہر روز صبح نو بجے تک ہوٹل سے روانہ ہو جائیں۔ اس سفر کا مقصد صرف خوبصورت مقامات دیکھنا نہیں، بلکہ گروپ کے اندر ٹائم مینجمنٹ، وقت کی پابندی اور اجتماعی نظم و ضبط کی تربیت بھی ہے۔ جب آپ ایک گروپ کے ساتھ سفر کر رہے ہوں تو ایک فرد کی معمولی سی تاخیر بھی پورے گروپ کے وقت کو متاثر کرتی ہے، اس لیے ہم اس معاملے میں خاص طور پر احتیاط کرتے ہیں۔

آج ہمارا پروگرام بوسنیا کے دو تاریخی اور خوبصورت شہروں، یائیتسے (Jajce) اور ٹراونک (Travnik)، جانے کا تھا۔

راستے میں ایک خوبصورت مسجد

صبح تقریباً نو بجے ہم ہوٹل سے روانہ ہوئے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد ٹراونک کے قریب ایک خوبصورت مسجد پر رکے۔ وقت تقریباً ساڑھے دس بجے کا تھا۔

یہاں مسجد کے ساتھ ایک دلچسپ اور خوبصورت نظام قائم کیا گیا ہے۔ مسجد کے ساتھ ایک بیکری اور کافی شاپ بھی ہے، اور ان کاروباری سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی مسجد کے اخراجات اور دینی کاموں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

ہم نے یہاں نماز ادا کی، کچھ دیر قیام کیا اور کافی سے لطف اندوز ہوئے۔ پھر آگے روانہ ہوئے کیونکہ آج ہماری اصل منزل یائیتسے تھی۔

یائیتسے، تاریخ اور قدرت کا حسین امتزاج
تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے مزید سفر کے بعد ہم یائیتسے پہنچے۔

یائیتسے بوسنیا کا ایک انتہائی تاریخی شہر ہے۔ قرونِ وسطیٰ کا قلعہ، قدیم شہر اور شہر کے عین درمیان موجود خوبصورت آبشار اس کی خاص پہچان ہیں۔

1463ء میں سلطان محمد فاتح کی قیادت میں عثمانیوں نے بوسنیا فتح کیا اور یائیتسے بھی اس تاریخی دور کا حصہ بنا۔ تاہم اس شہر کی تاریخ عثمانی عہد سے بھی بہت پہلے تک جاتی ہے، جس کی جھلک آج بھی اس کے قلعے اور قدیم عمارتوں میں نظر آتی ہے۔

یہاں پلیوا دریا (Pliva River) کا پانی تقریباً 20 میٹر بلند آبشار کی صورت میں شہر کے اندر گرتا ہے۔ تاریخی عمارتوں، سبز پہاڑوں اور بہتے ہوئے پانی کا یہ امتزاج واقعی ایک غیر معمولی منظر پیش کرتا ہے۔

مسجد، امام صاحب اور مقامی لوگوں کی محبت

یائیتسے کے سٹی سینٹر میں موجود مسجد بھی ہمارے سفر کا ایک اہم حصہ تھی۔

ہم نے یہاں ظہر کی نماز ادا کی اور مسجد کے امام صاحب سے ملاقات ہوئی۔ امام صاحب اور مقامی لوگوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ ان کی محبت، خلوص اور مہمان نوازی نے دل جیت لیا۔ چند ہی لمحوں میں یوں محسوس ہوا جیسے کسی اجنبی مقام پر نہیں بلکہ اپنے ہی لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوں۔

اس مسجد کے حوالے سے ایک مقامی روایت بھی بیان کی جاتی ہے کہ علاقے کی ایک خاتون نے اپنے شوہر کی صحت یابی پر اللہ تعالیٰ کی راہ میں مسجد تعمیر کرنے کی نذر مانی تھی۔ شوہر کی صحت بحال ہوئی تو انہوں نے اپنی نذر پوری کی۔ اسی روایت کے مطابق شہر میں دو پل بھی تعمیر کروائے گئے تاکہ لوگوں کی آمدورفت آسان ہو اور یہ خدمت صدقۂ جاریہ بن جائے۔

یہ روایت یاد دلاتی ہے کہ بوسنیا کی تاریخ صرف قلعوں، جنگوں اور سلطنتوں کی تاریخ نہیں، بلکہ یہاں کے لوگوں کی دعاؤں، خدمت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی تاریخ بھی ہے۔

ایک فیری ٹیل جیسا شہر

مسجد سے نکل کر ہم نے یائیتسے کے قدیم حصے کا وزٹ کیا۔

یہاں کی چھوٹی گلیاں، پتھر کی پرانی عمارتیں، صاف ستھرا ماحول، پہاڑوں کے درمیان آباد شہر اور ہر طرف بہتا پانی ایسا منظر پیش کرتے ہیں جیسے انسان کسی فیری ٹیل میں داخل ہوگیا ہو۔

مجھے ذاتی طور پر دنیا کے خوبصورت شہروں میں یائیتسے بہت پسند آیا۔ یہاں بڑے شہروں جیسا شور نہیں، بلکہ ایک خاص سکون اور ترتیب محسوس ہوتی ہے۔

ہم نے قلعے، قدیم حصوں، پانی کے راستوں، چشموں اور قدرتی مناظر سے لطف اٹھایا۔ پلیوا دریا اور اس سے جڑی چھوٹی نہریں اس شہر کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔

ٹراونک، عثمانی تاریخ کی ایک اور جھلک

یائیتسے کا وزٹ مکمل کرنے کے بعد ہم دوبارہ ٹراونک کی طرف روانہ ہوئے۔

ٹراونک بھی بوسنیا کا ایک تاریخی شہر ہے اور یہاں عثمانی دور کے بہت سے آثار آج بھی موجود ہیں۔ ہم نے ایک خوبصورت مسجد دیکھی، شہر کی گلیوں میں گھومے اور وہیں دوپہر کا کھانا کھایا۔

اس کے بعد ٹراونک کے مشہور قلعے کو دیکھا۔ وقت محدود ہونے کی وجہ سے اندر جانے کا موقع نہیں ملا، لیکن باہر سے بھی اس کی تاریخی عظمت محسوس ہوتی تھی۔ قلعے کے قریب مدرسہ اور دوسری تاریخی عمارتیں شہر کے عثمانی ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔

تاریخ، قدرت اور نظم و ضبط کا ایک دن

پورا دن دو تاریخی شہروں، مسجدوں، قلعوں، آبشاروں، چشموں اور خوبصورت گلیوں میں گزرا۔ عصر کی نماز کے بعد واپسی کا سفر شروع کیا اور مغرب تک ہوٹل پہنچ گئے۔

تھکن ضرور تھی، مگر ایسی تھکن جس میں اطمینان بھی شامل تھا۔

آج ہم نے تاریخ کو محسوس کیا، مقامی لوگوں کی محبت دیکھی، مسجدوں میں نماز ادا کی، قدرتی حسن سے لطف اٹھایا اور ساتھ ہی یہ سبق بھی تازہ کیا کہ اجتماعی سفر میں وقت کی پابندی، نظم و ضبط اور دوسروں کے وقت کا احترام کتنا ضروری ہے۔

بوسنیا کا حسن صرف اس کے پہاڑوں، دریاؤں اور آبشاروں میں نہیں، بلکہ اس کی تاریخ، مساجد، لوگوں کی محبت اور ان چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی ہے جو اپنی خاموشی میں صدیوں کی کہانیاں سناتے ہیں۔

The Beauty of Jajce and Travnik

Mufti Abdul Wahab

A Day of History and Nature

The third day of our Bosnia journey was dedicated to Jajce and Travnik, two beautiful historic towns.

We try to leave the hotel by 9am each day. Group travel is not only about visiting places; it also teaches punctuality, planning and respect for other people’s time.

On the way, we stopped at a mosque near Travnik. Interestingly, the mosque has a bakery and coffee shop, with income helping to support the mosque and religious activities. After prayer and coffee, we continued towards Jajce.

Jajce and Its Famous Waterfall

Jajce is one of Bosnia’s most beautiful historic towns. Its medieval fortress, old streets and famous waterfall give it a unique character.

The town later became part of the Ottoman period in Bosnia, although its history goes back much further. The Pliva River forms a spectacular waterfall of around 20 metres in the heart of the town.

We prayed Zuhr at a local mosque and met the Imam and community members. Their warmth and hospitality made us feel immediately welcome.

A local tradition also connects the mosque with a woman who is said to have promised to build it if her sick husband recovered. The story reflects another side of Bosnian history: faith, charity and service to people.

A Fairytale Town

Walking through Jajce felt almost like entering a fairytale. Stone buildings, narrow streets, flowing water, green mountains and a peaceful atmosphere make it very different from a busy modern city.

It became one of my favourite places on this journey.

Travnik and Ottoman Heritage

We later travelled back to Travnik, another historic Bosnian town with strong Ottoman heritage. We visited a mosque, walked through the town, had lunch and saw its famous fortress.

Although time did not allow us to enter the fortress, the surrounding historic buildings and madrasa still gave us a clear sense of the city’s past.

By evening, we returned to our hotel tired but satisfied.

The day brought together history, natural beauty, mosques, local hospitality and an important lesson in discipline and time management.

Bosnia’s beauty is not only in its mountains and waterfalls. It is also found in its people, its mosques and the quiet towns that still carry centuries of history.