
الحمدللہ، ہم خیریت سے بوسنیا پہنچ گئے۔
سفر ہمیشہ میرے لیے خوشی، تجسس اور سیکھنے کا ذریعہ رہا ہے۔ نئی جگہ، نئے لوگ، نئی تہذیب، مختلف تاریخ اور قدرت کے نئے مناظر، انسان کو دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع دیتے ہیں۔ اور بوسنیا ایسا ملک ہے جہاں پہنچتے ہی محسوس ہوتا ہے کہ یہاں صرف خوبصورتی نہیں، ہر وادی، ہر شہر اور ہر پرانی عمارت کے پیچھے ایک پوری داستان موجود ہے۔
بوسنیا کی تاریخ کئی ادوار پر پھیلی ہوئی ہے، لیکن یہاں عثمانی دور کے اثرات آج بھی بہت نمایاں ہیں۔ پندرھویں صدی سے یہاں مساجد، بازار، پل، وقف اور اسلامی طرزِ تعمیر نے شہروں کی شناخت کو ایک خاص رنگ دیا۔ سرائیوو کے قدیم بازار اور مساجد آج بھی اس تاریخی تسلسل کی یاد دلاتے ہیں، جبکہ غازی خسرو بیگ جیسے عثمانی گورنر کی تعمیرات نے شہر کی تہذیبی شناخت پر گہرا اثر چھوڑا۔
یہاں ایک مسلمان سیاح کو ایک خاص اپنائیت محسوس ہوتی ہے۔ مساجد، اسلامی تاریخ، حلال کھانے کی سہولت اور خاندانی ماحول کے باعث بوسنیا میرے نزدیک یورپ کے نہایت خوبصورت اور موزوں حلال فرینڈلی جگہوں میں سے ایک ہے۔
بوسنیا کی خوبصورتی جتنی دلکش ہے، اس کی جدید تاریخ اتنی ہی دردناک بھی ہے۔
سال1992 سے 1995 تک کی جنگ نے اس ملک کو شدید تباہی سے دوچار کیا۔ اندازاً ایک لاکھ افراد شہید ہوئے، جبکہ جولائی 1995 میں سربرینیتسا میں تقریباً آٹھ ہزار بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کو اکٹھے شہید کیا گیا۔ بین الاقوامی عدالتوں نے ان واقعات کو نسل کشی قرار دیا۔
آج جب آپ یہاں کے خوبصورت پہاڑ، دریا اور آباد شہر دیکھتے ہیں تو یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ صرف چند دہائیاں پہلے یہی سرزمین جنگ، محاصرے، نقل مکانی اور بے شمار خاندانوں کے دکھوں کی گواہ تھی۔
اسی لیے بوسنیا کا سفر میرے لیے صرف سیاحت نہیں، بلکہ تاریخ کو قریب سے دیکھنے اور ایک قوم کے صبر اور دوبارہ کھڑے ہونے کے حوصلے کو سمجھنے کا سفر بھی ہے۔
ان شاء اللہ اس سفر میں ہم سرائیوو کا قدیم شہر، جنگی یادگاریں، جھیلیں، آبشاریں۔ میوزیم، مشہور شہر مستار، ٹنل آف ہوپ اور بے شمار دیگر مقامات دیکھیں گے۔
میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی ملک کو صرف تصویروں اور خوبصورت مناظر سے نہ دیکھا جائے، بلکہ وہاں کے لوگوں، ان کی تاریخ، ان کے دکھ، ان کی کامیابیوں اور ان کے طرزِ زندگی کو بھی سمجھا جائے۔
بوسنیا میں بھی یہی کوشش رہے گی۔ ہم تاریخی مساجد دیکھیں گے، جنگ کی یادگاروں پر جائیں گے، مقامی مسلمانوں سے ملیں گے، ان کی زندگی کو قریب سے دیکھیں گے اور اس ملک کی اسلامی و تہذیبی میراث کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
یہ سفر ابھی شروع ہوا ہے۔ ان شاء اللہ آنے والے دنوں میں اپنے مشاہدات، ملاقاتوں، تاریخی مقامات اور بوسنیا کے مسلمانوں کے بارے میں مزید تفصیل سے لکھتا رہوں گا۔
فی الحال اتنا ضرور کہوں گا کہ بوسنیا پہلی ہی نظر میں دل کو چھو لینے والی سرزمین ہے۔ قدرت نے اسے حسن دیا، تاریخ نے اسے آزمائشیں دیں، اور اس کے لوگوں نے ان آزمائشوں کے درمیان جینے، سنبھلنے اور آگے بڑھنے کا ہنر سیکھا۔
اللہ تعالیٰ ہمارے اس سفر کو خیروبرکت والا بنائے، ہمیں تاریخ سے سبق لینے اور دنیا کو کھلی آنکھ اور کھلے دل سے دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Mufti Abdul Wahab
Alhamdulillah, we have arrived safely in Bosnia.
Travel has always been a source of joy and learning for me. New places, people, cultures and landscapes give us a chance to see the world from a different perspective. Bosnia is one of those countries where every city, valley and old building seems to carry a story.
Bosnia has a rich history, and the influence of the Ottoman period can still be seen across the country. Historic mosques, old markets, bridges and Islamic architecture remain an important part of cities such as Sarajevo.
For Muslim travellers, Bosnia also feels welcoming. Its mosques, Islamic heritage, halal food and family-friendly atmosphere make it one of Europe’s attractive halal-friendly destinations.
Bosnia’s natural beauty is remarkable, but its recent history is painful. The war from 1992 to 1995 caused enormous loss and destruction. Around 100,000 people were killed, and in July 1995 around 8,000 Bosniak Muslim men and boys were killed in Srebrenica, an atrocity recognised by international courts as genocide.
Looking at Bosnia’s peaceful cities, rivers and mountains today, it is difficult to imagine the suffering these communities experienced only a few decades ago.
For me, this journey is not simply about sightseeing. InshaAllah, we will visit Sarajevo’s old city, historic mosques, war memorials, the Tunnel of Hope, Mostar, lakes, waterfalls, museums and many other places.
I also hope to meet local Bosnian Muslims and learn more about their lives, history, culture and the way they preserved their identity through very difficult times.
I always believe that to understand a country, we should look beyond its beautiful scenery. We should also understand its people, their struggles, achievements and way of life.
Our Bosnia journey has only just begun. InshaAllah, I will continue to share more about the places we visit, the people we meet and the lessons this beautiful country has to offer.
Bosnia has been blessed with extraordinary natural beauty, tested by a difficult history, and strengthened by people who learned how to rebuild and move forward.
May Allah make this journey beneficial and blessed, and allow us to learn from history with open eyes and open hearts. Ameen.