A Day of History and Nature - Part 5

اردو مضمون، ویب سائٹ کے لیے ہیڈنگز کے ساتھ

سراجیوو: قدرت، تاریخ اور تہذیب کا حسین امتزاج

مفتی عبدالوہاب

Sarajevo, Bosnia and Herzegovina

سفر کا چوتھا دن، سراجیوو کے نام

بوسنیا کے سفر کا آج ہمارا چوتھا دن تھا۔ روزانہ کی طرح کوشش یہی تھی کہ صبح نو بجے ہوٹل سے روانہ ہو جائیں، کیونکہ گروپ ٹریول میں وقت کی پابندی اور نظم و ضبط بہت ضروری ہے۔

آج کا دن خاص طور پر بوسنیا کے دارالحکومت سراجیوو (Sarajevo) کے نام تھا، ایک ایسا شہر جہاں قدرت، تاریخ، مذہب اور مختلف تہذیبیں صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔

وریلو بوسنے، قدرت کا ایک حسین گوشہ

صبح نو بجے ہم ہوٹل سے روانہ ہوئے اور سب سے پہلے وریلو بوسنے (Vrelo Bosne) پہنچے۔ یہ مقام الیجا میں ماؤنٹ ایگمان کے دامن میں واقع ہے اور یہیں سے دریائے بوسنا کے چشمے پھوٹتے ہیں۔

میں نے دنیا کے بے شمار پارکس دیکھے ہیں، لیکن وریلو بوسنے میرے پسندیدہ پارکس میں شامل ہوگیا۔ بہتے چشمے، چھوٹی نہریں، صاف پانی، جھیلیں، سرسبز درخت اور پانی پر تیرتے ہنس پورے ماحول کو غیر معمولی خوبصورتی دیتے ہیں۔

یہاں کی صفائی نے بھی خاص طور پر متاثر کیا۔ ایک مرتبہ پھر احساس ہوا کہ کسی جگہ کو خوبصورت بنانے کے لیے قدرت کافی ہے، لیکن اس خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لیے لوگوں کا شعور اور صفائی کا احساس بھی ضروری ہے۔

سراجیوو سٹی ہال، حسن کے ساتھ درد کی تاریخ

اس کے بعد ہم سراجیوو سٹی سینٹر کی طرف روانہ ہوئے اور Vijećnica، یعنی سراجیوو سٹی ہال پہنچے۔ آسٹرو ہنگیرین دور کی یہ شاندار عمارت 1896ء میں مکمل ہوئی تھی اور آج بھی شہر کی نمایاں عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔

لیکن اس کی تاریخ صرف خوبصورتی تک محدود نہیں۔ 1992ء میں سراجیوو کے محاصرے کے دوران شدید گولہ باری سے عمارت جل گئی اور اس وقت یہاں موجود قومی و یونیورسٹی لائبریری کی تقریباً دو ملین کتابیں اور دستاویزات بھی آگ کی نذر ہوگئیں۔

بعد میں عمارت کو دوبارہ بحال کیا گیا اور 2014ء میں عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ آج یہ عمارت سراجیوو کے حسن کے ساتھ اس کے دکھ، جنگ اور دوبارہ کھڑے ہونے کی صلاحیت کی بھی علامت ہے۔

باشچارشیہ اور عثمانی سراجیوو

سٹی ہال سے نکل کر ہم سراجیوو کے قدیم شہر باشچارشیہ (Baščaršija) میں داخل ہوئے۔ یہاں کی گلیاں، بازار، مساجد اور تاریخی عمارتیں آج بھی عثمانی دور کے سراجیوو کی یاد تازہ کرتی ہیں۔

ہمارا ایک اہم پڑاؤ غازی خسرو بیگ مسجد تھا، جہاں ہم نے جمعہ کی نماز ادا کی۔

یہ مسجد 1530ء میں غازی خسرو بیگ نے تعمیر کروائی تھی۔ وہ سولہویں صدی میں بوسنیا کے عثمانی گورنر رہے اور سراجیوو کی تعمیر و ترقی میں ان کا کردار غیر معمولی تھا۔

ایک مسجد نہیں، پورا فلاحی نظام

غازی خسرو بیگ نے صرف مسجد تعمیر نہیں کروائی بلکہ ایک پورا وقفی نظام قائم کیا۔ مسجد کے ساتھ مدرسہ، مکتب، خانقاہ، حمام، بازار، سرائے اور دوسری عمارتیں قائم ہوئیں، اور وقف کے ذریعے ان اداروں کے اخراجات اور شہر کی معاشرتی زندگی کو سہارا ملا۔

آج بھی اولڈ ٹاؤن میں ان کے مقبرے، مدرسے، کلاک ٹاور اور دیگر آثار اس دور کی یاد دلاتے ہیں۔

یہاں آکر ایک مرتبہ پھر احساس ہوا کہ اسلامی تہذیب میں مسجد صرف نماز کی جگہ نہیں تھی بلکہ تعلیم، خدمت، معاشرت اور فلاح کا مرکز بھی ہوا کرتی تھی۔

یورپ کا یروشلم

سراجیوو کی ایک منفرد خصوصیت اس کا مذہبی اور تہذیبی تنوع ہے۔ یہاں مسجد، کیتھیڈرل، آرتھوڈوکس چرچ اور یہودی عبادت گاہیں ایک دوسرے کے قریب موجود ہیں۔ اسی وجہ سے سراجیوو کو بعض اوقات “یورپ کا یروشلم” بھی کہا جاتا ہے۔

اس شہر کی یہودی تاریخ بھی اہم ہے۔ اسپین سے یہودیوں کی بے دخلی کے بعد بہت سے سیفاردی یہودی عثمانی علاقوں میں آئے اور سراجیوو میں بھی ایک مضبوط برادری قائم ہوئی۔

یوں سراجیوو کی تاریخ کسی ایک قوم یا مذہب کی نہیں، بلکہ مختلف لوگوں کے ساتھ رہنے، ایک دوسرے سے اثر لینے اور مشترکہ شہر بنانے کی تاریخ بھی ہے۔

ایک گولی جس نے دنیا کی تاریخ بدل دی

اولڈ سٹی کے وزٹ کے دوران ہم اس مقام پر بھی گئے جہاں 28 جون 1914ء کو آسٹریا ہنگری کے ولی عہد آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ اور ان کی اہلیہ سوفی کو گاوریلو پرنسپ نے قتل کیا تھا۔

اس واقعے کے بعد یورپ کے حالات تیزی سے بگڑے اور چند ہفتوں کے اندر پہلی جنگِ عظیم شروع ہوگئی۔

ایک شہر کی ایک سڑک پر پیش آنے والا واقعہ پوری دنیا کی تاریخ کا رخ بدلنے کا سبب بن گیا۔

سیبِل، بوسنیائی کھانا اور اولڈ سٹی کی رونق
ہم نے باشچارشیہ کا مشہور Sebilj بھی دیکھا، جو آج سراجیوو کی سب سے پہچانی جانے والی علامتوں میں شامل ہے۔

گروپ کو کچھ وقت بازار دیکھنے اور خریداری کے لیے بھی دیا گیا۔ اور ظاہر ہے، سراجیوو آئیں اور یہاں کا روایتی کھانا نہ چکھیں تو سفر ادھورا رہتا ہے۔ ہم نے مشہور Ćevapi کھائے اور بوسنیائی کافی سے بھی لطف اٹھایا۔

کیبل کار سے Trebević کی بلندیوں تک

اس کے بعد ہم سراجیوو کی مشہور کیبل کار کے ذریعے Trebević کی طرف روانہ ہوئے۔

اوپر پہنچ کر پہاڑوں، درختوں اور بلندی سے سراجیوو کا منظر دیکھنا ایک الگ تجربہ تھا۔ ہم نے وہاں واک کی، قدرتی ماحول سے لطف اٹھایا اور گروپ کے ساتھیوں نے مختلف تفریحی سرگرمیوں میں بھی وقت گزارا۔

دن بھر کی مصروفیات کے بعد ہم تقریباً عصر کے وقت ہوٹل واپس پہنچ گئے۔

ایک شہر، کئی تہذیبیں

یہ بوسنیا کے سفر کے اہم ترین دنوں میں سے ایک تھا۔ ایک ہی دن میں قدرت، تاریخ، مسجد، اولڈ سٹی، بازار، مختلف مذاہب کی عبادت گاہیں، پہلی جنگِ عظیم کی تاریخ، بوسنیائی کھانا اور پہاڑوں کی خوبصورتی سب دیکھنے کا موقع ملا۔

شاید سراجیوو کی اصل خوبصورتی بھی یہی ہے۔

یہ ایک ایسا شہر ہے جہاں مشرق اور مغرب، اسلامی تہذیب اور یورپی تاریخ، قدیم بازار اور جدید زندگی، مسجدیں اور دوسری عبادت گاہیں، سب ایک دوسرے کے قریب نظر آتے ہیں۔

اسی امتزاج نے سراجیوو کو صرف خوبصورت نہیں بلکہ ایک ایسا شہر بنا دیا ہے جسے دیکھنے کے ساتھ سمجھنا بھی ضروری ہے۔

Sarajevo: Where Nature, History and Cultures Meet

Mufti Abdul Wahab

A Day in Bosnia’s Capital

The fourth day of our Bosnia journey was dedicated to Sarajevo, a city where nature, history, religion and different cultures have lived side by side for centuries.

We began at Vrelo Bosne, beneath Mount Igman, where the River Bosna begins. Its clear springs, streams, lakes, trees and swans make it one of the most peaceful places around Sarajevo. I was also impressed by how clean and well maintained it was. Nature gives us beauty, but people have a responsibility to protect it.

A City That Carries the Scars of War

Our next stop was Sarajevo City Hall, Vijećnica, completed in 1896. During the siege of Sarajevo in 1992, the building was badly damaged by shelling and fire, and a huge part of the National and University Library collection was destroyed.

The building was later restored and reopened in 2014. Today it represents not only Sarajevo’s architectural beauty but also its suffering and remarkable ability to rebuild.

Ottoman Sarajevo and Gazi Husrev Beg

We then entered Baščaršija, Sarajevo’s historic Old Town, where Ottoman heritage can still be seen in its streets, markets and mosques.

We prayed Jumu’ah at the historic Gazi Husrev Beg Mosque, built in 1530. Gazi Husrev Beg did not simply build a mosque. Through his waqf, he supported a madrasa, school, bathhouse, market, inn and other institutions.

It is a powerful reminder that the mosque in Islamic civilisation was often connected with education, welfare and community life.

The “Jerusalem of Europe”

Sarajevo is also known for its religious diversity. Mosques, Catholic and Orthodox churches, and Jewish heritage sites are located close to one another, which is why the city has sometimes been called the “Jerusalem of Europe.”

Its history includes Bosniaks, Christians and a long-established Sephardic Jewish community. This makes Sarajevo’s story much more than the story of one religion or one people.

The Place Where World History Changed

We also visited the site where Archduke Franz Ferdinand and his wife Sophie were assassinated on 28 June 1914. The killing became a major trigger for the First World War.

It is remarkable to stand on one street and realise that an event there helped change the course of world history.

Food, Mountains and a City of Many Layers

We explored Baščaršija, saw the famous Sebilj, tasted traditional Ćevapi and enjoyed Bosnian coffee.

Later, we took the cable car up Trebević Mountain, where the forests, fresh air and views over Sarajevo offered a completely different side of the city.

By the end of the day, we had experienced nature, Ottoman heritage, war history, religious diversity, Bosnian food and mountain scenery.

That is perhaps Sarajevo’s greatest beauty: East and West, Islam and Europe, old history and modern life all meet within the same city.