حضرت لقمانؑ کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں: اولاد کی تربیت کا قرآنی نمونہ
مفتی عبدالوہاب
آج کے دور میں جب والدین اور اولاد کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں اور نسلوں کے درمیان سوچ کا فرق نمایاں ہو رہا ہے، ایسے وقت میں قرآنِ مجید ہمیں حضرت لقمانؑ کی وہ نصیحتیں یاد دلاتا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کیں۔ یہ نصیحتیں صرف ایک بیٹے کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے تمام والدین اور اولاد کے لیے تربیت کا ایک مکمل اصول ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ لقمان آیات 12 تا 19 میں حضرت لقمانؑ کا ذکر فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ اللہ نے انہیں حکمت عطا فرمائی تھی۔ مفسرین کے مطابق لقمانؑ نبی تھے یا نہیں، اس میں علماء کا اختلاف ہے، لیکن سب اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ نے انہیں بڑی دانائی، بصیرت اور حکمت عطا فرمائی تھی۔ ان کی سب سے بڑی حکمت یہ تھی کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی تربیت کا آغاز محبت، ایمان اور سمجھانے کے انداز سے کیا۔
ابتدائی عملی نکات برائے والدی
بچوں سے بات کرتے وقت لہجہ نرم اور محبت بھرا رکھیں، کیونکہ سختی اکثر فاصلے پیدا کرتی ہے۔ نصیحت شروع کرنے سے پہلے بچے کی بات سنیں، تاکہ وہ خود کو اہم اور محفوظ محسوس کرے۔
تربیت کا آغاز محبت سے
حضرت لقمانؑ جب اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہیں تو اسے محبت بھرے انداز میں پکارتے ہیں: “اے میرے پیارے بیٹے!”
مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ انداز ہمیں سکھاتا ہے کہ اولاد کی اصلاح صرف حکم دینے اور ڈانٹنے سے نہیں ہوتی، بلکہ محبت، شفقت اور اعتماد سے ہوتی ہے۔ جب بچے کو یہ احساس ہو کہ میرے والدین مجھ سے محبت کرتے ہیں، تو نصیحت اس کے دل میں جگہ بناتی ہے۔
عملی نکات برائے والدین
روزانہ کچھ وقت صرف بچے کے ساتھ گزاریں، چاہے وہ چند منٹ کی بات چیت ہی کیوں نہ ہو۔
اصلاح کے وقت پہلے محبت کا اظہار کریں، پھر بات سمجھائیں؛ اس سے بچہ دفاعی رویہ اختیار نہیں کرتا۔
پہلی نصیحت: اللہ کی پہچان اور توحید
سورۂ لقمان کی آیت 13 میں حضرت لقمانؑ اپنے بیٹے کو سب سے پہلے اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کی نصیحت کرتے ہیں اور شرک سے بچنے کی تاکید کرتے ہیں۔
آج والدین کے لیے بھی سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ بچوں کو صرف دنیاوی کامیابی کے لیے تیار نہ کریں، بلکہ ان کے دل میں اللہ کی محبت اور آخرت کا احساس بھی پیدا کریں۔
عملی نکات برائے والدین
بچوں کو چھوٹی عمر سے اللہ کی نعمتوں، دعا اور شکر کے الفاظ سکھائیں۔
گھر میں توحید، دعا اور اللہ پر بھروسے کی باتیں عام کریں تاکہ ایمان فطری انداز میں مضبوط ہو۔
والدین کا احترام اور حدودِ اطاعت
سورۂ لقمان کی آیات 14 اور 15 میں اللہ تعالیٰ والدین کے حقوق بیان فرماتے ہیں۔ ماں کی تکلیفوں اور قربانیوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
مفسرین فرماتے ہیں کہ اسلام نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کو بہت بلند مقام دیا ہے۔ لیکن اگر والدین کسی ایسی بات کا حکم دیں جو اللہ کی نافرمانی ہو تو اس معاملے میں اطاعت نہیں کی جائے گی، البتہ حسنِ سلوک، ادب اور احترام پھر بھی باقی رہے گا۔
یہ اصول آج کے دور میں بہت اہم ہے، جہاں اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ اسلام اختلاف کے باوجود بدتمیزی کی اجازت نہیں دیتا۔
عملی نکات برائے والدین
بچوں کو شروع سے یہ سکھائیں کہ اختلاف کے باوجود ادب کیسے برقرار رکھا جاتا ہے۔
گھر میں ایسا ماحول بنائیں جہاں بات چیت ہو، حکم اور جھڑک کم ہو، تاکہ احترام خود بخود پیدا ہو۔
اللہ ہر چیز کو جانتا ہے
سورۂ لقمان کی آیت 16 میں حضرت لقمانؑ اپنے بیٹے کو سمجھاتے ہیں کہ اللہ کے علم سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ تربیت کا بہت اہم اصول ہے۔ والدین اگر بچے کے دل میں اللہ کی نگرانی کا احساس پیدا کر دیں تو بچہ اکیلے میں بھی صحیح فیصلہ کرنے کے قابل بن جاتا ہے۔
اصل تربیت یہ نہیں کہ بچہ صرف والدین کے سامنے اچھا بنے، بلکہ یہ ہے کہ وہ تنہائی میں بھی اللہ سے ڈرتا رہے۔
عملی نکات برائے والدین:
بچوں کو یہ عادت ڈالیں کہ وہ ہر کام سے پہلے “اللہ دیکھ رہا ہے” کا احساس کریں۔
تنہائی میں کیے گئے اچھے کاموں کی تعریف کریں، تاکہ ان کے اندر اخلاص اور نگرانیِ الٰہی کا شعور بڑھے۔
نماز، نیکی اور صبر کی تعلیم
سورۂ لقمان کی آیت 17 میں چار بڑی نصیحتیں ہیں:
نماز قائم کرنا۔
نیکی کا حکم دینا۔
برائی سے روکنا۔
مشکلات پر صبر کرنا۔
مفسرین فرماتے ہیں کہ جو شخص خیر کا راستہ اختیار کرتا ہے اسے مشکلات بھی پیش آتی ہیں، اس لیے لقمانؑ نے نماز کے ساتھ صبر کا ذکر کیا۔ نماز انسان کو مضبوط کرتی ہے اور صبر اسے ثابت قدم رکھتا ہے۔
یہ والدین کے لیے بھی پیغام ہے کہ بچوں کو صرف کامیابی کی خواہش نہ سکھائیں بلکہ مشکلات برداشت کرنے کا حوصلہ بھی دیں۔
عملی نکات برائے والدین
بچوں کی نماز کی تربیت نرمی اور تسلسل کے ساتھ کریں، صرف ڈانٹ سے نہیں۔
انہیں چھوٹی ذمہ داریاں دے کر صبر اور استقامت کی عادت ڈالیں، جیسے وقت کی پابندی اور کام مکمل کرنا۔
اخلاق اور عاجزی کی تربیت
سورۂ لقمان کی آیات 18 اور 19 میں تکبر، غرور، اونچی آواز اور نامناسب رویوں سے منع کیا گیا ہے۔
اسلام انسان کو صرف عبادت گزار نہیں بلکہ بااخلاق انسان بنانا چاہتا ہے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ اچھا مسلمان وہ ہے جس کی عبادت کے ساتھ اس کا اخلاق بھی خوبصورت ہو۔
بچے اگر گھر میں عاجزی، احترام، نرم گفتگو اور دوسروں کی قدر دیکھیں گے تو یہی چیزیں ان کی شخصیت کا حصہ بن جائیں گی۔
عملی نکات برائے والدین:
گھر میں بڑوں اور چھوٹوں سب سے نرم لہجے میں بات کرنے کی عادت ڈالیں۔
بچوں کے سامنے اپنی گفتگو، چال اور رویے میں وقار اور سادگی کا عملی نمونہ پیش کریں۔
آج کے والدین کے لیے قرآن کا پیغام
حضرت لقمانؑ کی نصیحتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھی تربیت کے چند اصول یہ ہیں:
بچوں کو وقت دیں۔
محبت سے سمجھائیں۔
ان کے دل میں اللہ کی محبت پیدا کریں۔
خود اپنے عمل سے مثال بنیں۔
صرف دنیا نہیں، آخرت کی کامیابی بھی سامنے رکھیں۔
نصیحت سے پہلے تعلق مضبوط کریں۔
اصل کامیاب والد وہ نہیں جو صرف اپنی بات منوا لے، بلکہ وہ ہے جو اپنی اولاد کے دل میں ایمان، اخلاق اور اللہ سے تعلق پیدا کر دے۔
عملی نکات برائے والدین
ہر ہفتے کم از کم ایک بار بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی دینی، تعلیمی اور جذباتی کیفیت پر بات کریں۔
گھر میں “نصیحت” کے ساتھ “مثال” کو بھی اہمیت دیں، کیونکہ بچے زیادہ تر وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے والدین کو کرتے دیکھتے ہیں۔