تقریباً تین ماہ بعد ایک مرتبہ پھر پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھنے کا موقع ملا۔ میری فلائٹ منگل کی صبح تقریباً گیارہ بجے کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ ہوئی۔
پاکستان پہنچتے ہی سب سے پہلے اپنے ان تمام دوستوں، ساتھیوں اور احباب کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جو ہمیشہ میری سہولت، آرام اور وقت کا خیال رکھتے ہیں۔ یہ ان کی محبت اور خلوص ہے کہ وہ عموماً ایئرپورٹ کے اندر ہی موجود ہوتے ہیں اور میری آمد سے لے کر گھر پہنچنے تک ہر معاملہ اس طرح سنبھالتے ہیں کہ وقت بھی ضائع نہ ہو اور تھکن بھی کم سے کم ہو۔
اس مرتبہ بھی ماشاءاللہ یہی ہوا۔ فلائٹ لینڈ ہونے کے تقریباً آدھے گھنٹے کے اندر اندر میں ایئرپورٹ سے نکل کر اپنے گھر پہنچ چکا تھا۔
لیکن ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی ایک سوال پھر ذہن میں آیا:
کراچی ایئرپورٹ آخر کب بدلے گا؟
دنیا کے بڑے شہروں کے ایئرپورٹس مسلسل جدید ہو رہے ہیں۔ مسافروں کی تعداد بڑھ رہی ہے، سہولتیں بدل رہی ہیں، ٹیکنالوجی آگے بڑھ رہی ہے، لیکن کراچی کا ایئرپورٹ دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وقت یہاں کچھ زیادہ تیزی سے نہیں چل رہا۔
ایئرپورٹ کسی بھی شہر اور ملک کا پہلا تعارف ہوتا ہے۔ بیرونِ ملک سے آنے والا شخص سب سے پہلے اسی دروازے سے اپنے ملک کو دیکھتا ہے۔ اس لیے ایئرپورٹ محض ایک عمارت نہیں، کسی ملک کی انتظامی صلاحیت، ترجیحات اور مستقبل کی ایک جھلک بھی ہوتا ہے۔
امید ہے کہ کبھی کراچی کو بھی ایک ایسا جدید، خوبصورت اور باصلاحیت بین الاقوامی ایئرپورٹ ملے گا جس پر ہم فخر کر سکیں۔
بہرحال، ایئرپورٹ سے باہر نکلے تو کراچی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ہمارے استقبال کے لیے موجود تھا۔
وہی ہجوم۔
وہی بے ہنگم ٹریفک۔
وہی شور شرابہ۔
وہی موٹر سائیکلوں پر بغیر ہیلمٹ کے سوار لوگ۔
وہی بسوں سے لٹکے ہوئے مسافر۔
وہی سگنل پر کھڑے ہوئے لوگ۔
اور وہی ہاتھ جو گاڑی کا شیشہ دیکھتے ہی مدد کے لیے اٹھ جاتے ہیں۔
یہ کراچی ہے۔ ایک ایسا شہر جس میں زندگی ہر لمحہ دوڑ رہی ہے، لیکن اسی دوڑ میں بے شمار لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
گھر پہنچا تو تقریباً بارہ بجنے والے تھے۔ سفر کی تھکن تھی، لیکن آرام کے لیے زیادہ وقت نہیں تھا۔ ٹیم سے ملاقات ہوئی اور فوراً دن کا پروگرام ترتیب دیا گیا۔
ظہر کی نماز تقریباً ڈیڑھ بجے تھی اور تین بجے کے قریب ہمیں اپنے روزگار پروجیکٹ کے سلسلے میں رکشوں کی تقسیم کے لیے روانہ ہونا تھا۔
یعنی پاکستان پہنچنے کے چند ہی گھنٹوں بعد کام شروع۔
کچھ دیر آرام کیا، ناشتہ کیا، پھر ظہر کی نماز ادا کی۔ اسی دوران میری چھوٹی بہن بھی آگئیں۔ میری بھتیجی جو امریکہ سے آئی ہوئی تھی، اپنی ننھی سی بیٹی کو بھی ساتھ لائی تھی۔ سفر کی مصروفیت کے درمیان ان سے مختصر سی ملاقات ہوئی، بچی کو دیکھا اور پھر ہم اپنے اگلے سفر پر روانہ ہوگئے۔
یہ سفر کسی سیاحتی مقام کا نہیں تھا۔
یہ سفر ان لوگوں کی طرف تھا جن کے لیے ایک رکشہ محض ایک سواری نہیں، روزگار کا ایک دروازہ بن سکتا ہے۔
ایک رکشہ، ایک روزگار، ایک زندگی
تقریباً دس سال پہلے میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اگر کسی ضرورت مند انسان کو فوری طور پر ایسا ذریعۂ روزگار فراہم کر دیا جائے جس سے وہ اسی دن سے اپنی آمدنی شروع کر سکے تو شاید یہ محض مالی امداد سے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہو۔
خیال آیا کہ آٹو رکشا کیوں نہ دیے جائیں؟
یہیں سے اس پروجیکٹ کا آغاز ہوا۔
رکشا بظاہر ایک چھوٹی سی چیز ہے، لیکن ایک غریب آدمی کے لیے یہ اس کی خود انحصاری، عزتِ نفس اور مستقل آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنے ہاتھ سے روزی کما سکتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرسکتا ہے، گھر کا خرچ چلا سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر اسے یہ احساس ملتا ہے کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہے۔
لیکن اس منصوبے کے آغاز پر بہت سے لوگوں نے مجھے مایوس کرنے کی کوشش کی۔
لوگ کہتے تھے:
“یہ لوگ رکشے بیچ دیں گے۔”
“یہ اسے صحیح طریقے سے نہیں چلائیں گے۔”
“یہ پروجیکٹ کامیاب نہیں ہوگا۔”
“آپ کے پیسے ضائع ہوجائیں گے۔”
ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ کم نہیں جو کسی نئے کام کے آغاز پر حوصلہ دینے کے بجائے سب سے پہلے اس کی ناکامی کے امکانات گنوانا شروع کر دیتے ہیں۔
لیکن میری عادت کچھ مختلف ہے۔
مجھے چیلنج دیا جائے تو میں اسے قبول کرنا پسند کرتا ہوں۔
میں نے کہا، اگر سو لوگوں میں سے ایک بڑی تعداد بھی اس ذریعے سے اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجاتی ہے تو یہ کوشش ناکام نہیں، کامیاب ہے۔
الحمدللہ، وقت نے اس سوچ کو غلط ثابت نہیں ہونے دیا۔
گزشتہ برسوں میں ہم اس پروجیکٹ کے ذریعے کثیر تعداد میں رکشے ضرورت مند لوگوں کو دے چکے ہیں۔ ان میں سے بہت سی ایسی کامیاب کہانیاں ہیں جو میرے لیے اس پورے کام کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔
اور ہر رکشے کے پیچھے ایک کہانی ہے۔
ہر رکشے کے پیچھے ایک انسان ہے
اس دن جب ہم رکشے تقسیم کر رہے تھے تو مختلف لوگوں سے ملاقات ہوئی۔
ایک نوجوان ایسا تھا جسے کینسر کا مرض لاحق تھا۔ اس کے ساتھ اسٹول بیگ لگا ہوا تھا۔ بظاہر وہ ایک انتہائی مشکل بیماری سے لڑ رہا تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں مایوسی نہیں تھی۔
اس کے اندر زندگی تھی۔
امنگ تھی۔
امید تھی۔
اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ تھا۔
ایک صاحب ایسے تھے جن کا ایکسیڈنٹ ہوچکا تھا اور ان کے پاؤں میں راڈ پڑی ہوئی تھی۔
ایک شخص کئی ماہ سے بے روزگار تھا۔ گھر میں بچے تھے، خاندان تھا، ذمہ داریاں تھیں، مگر روزگار نہیں تھا۔
یہ سب لوگ الگ الگ تھے، ان کی بیماریاں الگ تھیں، مسائل الگ تھے، حالات الگ تھے، لیکن ان سب کے درمیان ایک چیز مشترک تھی:
ضرورت۔
غربت
روزگار کی ضرورت۔
عزت کے ساتھ جینے کی ضرورت۔
اور اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل کی ضرورت۔
تب ایک مرتبہ پھر احساس ہوا کہ ہم اکثر غربت کو اعداد و شمار میں دیکھتے ہیں، لیکن حقیقت میں غربت اعداد و شمار نہیں ہوتی۔
غربت ایک چہرہ ہوتی ہے۔
ایک گھر ہوتا ہے۔
ایک بیمار ماں ہوتی ہے۔
ایک بے روزگار باپ ہوتا ہے۔
ایک ایسا بچہ ہوتا ہے جس کی فیس ادا نہیں ہوئی۔
اور کبھی کبھی ایک ایسا نوجوان ہوتا ہے جو بیماری کے باوجود اپنے ہاتھوں سے محنت کرکے زندگی کو دوبارہ اپنے قابو میں لینا چاہتا ہے۔
امید بانٹنے کی کوشش
میری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ جب کسی ضرورت مند سے ملاقات ہو تو صرف اس کے ہاتھ میں کوئی مدد نہ رکھ دی جائے بلکہ اس کے دل میں امید بھی پیدا کی جائے۔
میں لوگوں سے بات کرتا ہوں۔
ان کے حالات سنتا ہوں۔
انہیں حوصلہ دیتا ہوں۔
انہیں مایوسی سے نکالنے کی کوشش کرتا ہوں۔
کیونکہ بعض اوقات انسان کو صرف پیسے کی ضرورت نہیں ہوتی، اسے یہ یقین بھی چاہیے ہوتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں ہے اور اس کی زندگی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
اس روز بھی یہی کوشش تھی۔
رکشے تقسیم ہوئے، دعائیں ملیں، مسکراہٹیں دیکھیں اور کئی لوگوں کی آنکھوں میں وہ خوشی دیکھی جو کسی چیز کی قیمت سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔
اس سال بھی اس روزگار کے منصوبے کے تحت مزید رکشے دینے کا ارادہ ہے۔ اس وقت تک پندرہ رکشے دیے جا چکے ہیں، جبکہ آگے مزید رکشے دینے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ان شاء اللہ رمضان سے پہلے مزید ڈونرز اور سپورٹرز کے تعاون سے اس تعداد میں اضافہ ہوگا۔
میری کوشش یہی ہے کہ خیر کا یہ سلسلہ رکے نہیں۔
مغرب تک جاری رہنے والا دن
رکشوں کی تقسیم اور لوگوں سے ملاقاتوں کا یہ سلسلہ تقریباً مغرب تک جاری رہا۔
سفر کی تھکن اپنی جگہ تھی، لیکن عجیب بات ہے کہ دوسروں کے لیے کچھ کرنے کے بعد انسان خود کو زیادہ تھکا ہوا محسوس نہیں کرتا۔
بلکہ دل کے اندر ایک عجیب سی خوشی پیدا ہوتی ہے۔
ایک اطمینان۔
ایک احساس کہ آج کا دن کسی کے کام آیا۔
کسی کے گھر میں روزگار کا ایک ذریعہ گیا۔
کسی کے بچوں کے مستقبل میں شاید تھوڑی سی آسانی پیدا ہوئی۔
اور شاید کسی ایسے شخص کو امید ملی جو کافی عرصے سے مایوسی میں گھرا ہوا تھا۔
یہی احساس میرے لیے پاکستان آنے کی سب سے بڑی وجہوں میں سے ایک ہے۔
مغرب کے بعد گھر واپس پہنچا، کچھ دیر آرام کیا اور پھر بڑے بھائی آفتاب صاحب کے گھر چلا گیا۔ ان کے ساتھ بیٹھا، شام گزاری، کھانا کھایا اور کوشش کی کہ عشاء کی نماز بھی ادا ہوجائے۔ اس دوران دوستوں اور ساتھیوں سے ملاقاتیں بھی رہیں۔
پاکستان آکر ایک عجیب کیفیت ہوتی ہے۔
وقت بہت کم ہوتا ہے اور ملنے والے بہت زیادہ۔
ہر شخص چاہتا ہے کہ کچھ وقت ساتھ بیٹھیں، بات کریں، حال احوال معلوم کریں۔
لیکن اگلا دن بھی انتظار کر رہا ہوتا ہے۔
اور میرے لیے اگلا دن خاص طور پر اہم تھا۔
اس لیے کوشش یہی تھی کہ زیادہ دیر نہ ہو۔ رات تقریباً بارہ بجے تک سو جاؤں تاکہ اگلے دن تازہ دم ہوکر دوبارہ اپنے کام پر نکلا جاسکے۔
یوں پاکستان میں میرا پہلا دن مکمل ہوا۔
ایک طویل سفر کے بعد گھر واپسی، ایئرپورٹ سے کراچی کی ہنگامہ خیز سڑکوں تک، اور پھر سیدھا ان لوگوں کے درمیان جن کے لیے روزگار صرف آمدنی نہیں بلکہ زندگی کو دوبارہ اپنے ہاتھ میں لینے کا نام ہے۔
یہ صرف پہلا دن تھا۔
آگے کے چار دنوں میں ملاقاتیں بھی تھیں، منصوبے بھی تھے، خوشیاں بھی تھیں اور کچھ ایسے مشاہدات بھی، جو دل کو خوش کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے سوالات بھی پیدا کرنے والے تھے۔
(جاری ہے۔۔۔۔۔)
After almost three months, I once again had the opportunity to return to Pakistan. My flight landed in Karachi on Tuesday morning, and within a short time I was home.
As I left the airport, one question returned to my mind: when will Karachi Airport truly change? Airports are often the first impression of a country. While major cities around the world continue to modernise their airports and improve passenger facilities, Karachi still seems to be waiting for the development it deserves.
Outside, Karachi welcomed me in its familiar way: crowded roads, traffic, noise, motorbikes, buses and people struggling at every corner. It is a city full of energy, but also a city where many people continue to fight simply to meet their basic needs.
There was little time to rest. Within a few hours of arriving, I joined the team for our Rozgar Project and went to distribute rickshaws to people in need.
The idea behind this project began around ten years ago. I wanted to provide people not simply with financial assistance, but with a means to earn with dignity. A rickshaw may appear to be a small vehicle, but for a struggling family it can mean independence, regular income and the ability to stand on their own feet.
That day, I met people facing very different challenges. One young man was living with cancer, another had suffered a serious accident, while another had been unemployed for months. Their circumstances were different, but their need was the same: an opportunity to earn with dignity and support their families.
These meetings remind me that poverty is not a statistic. It is a person, a family, an illness, an unpaid school fee and sometimes a father desperately searching for work.
My aim is always to offer more than material help. People also need encouragement, dignity and the belief that their lives can improve.
By Maghrib, the rickshaws had been distributed and we had witnessed smiles, prayers and renewed hope. Despite the tiredness of travel, there was a sense of satisfaction that the day had brought some ease into the lives of others.
That was only my first day in Pakistan, but it reminded me once again why these visits matter so much to me: to meet people, understand their struggles and, wherever possible, help them stand on their own feet.
(To be continued…..)