مفتی عبدالوہاب

سری لنکا کا یہ سفر میرے لیے محض تجارت، سیاحت یا ایک نئے ملک کو دیکھنے کا نام نہیں تھا۔ اس نے مجھے مختلف لوگوں سے ملنے، ایک نئے معاشرے کو سمجھنے اور زندگی کے کئی بنیادی اصول عملی طور پر سیکھنے کا موقع دیا۔
ایک ماہ کے اس سفر میں ہم نے پاکستان سے لے جانے والا کپڑا فروخت کیا، مختلف شہروں کا سفر کیا، مساجد میں گئے، مقامی لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور واپسی پر سری لنکا سے پان اور کاجو پاکستان لاکر فروخت کیے۔
تمام واجبات اور ٹکٹ کی رقم ادا کرنے کے بعد تقریباً دو سو ڈالر کا منافع حاصل ہوا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سفر کا اصل فائدہ صرف مالی منافع نہیں تھا۔ اس سے کہیں زیادہ قیمتی وہ تجربہ، خود اعتمادی اور مشاہدات تھے جو میں اپنے ساتھ لے کر واپس آیا۔
سری لنکا کے مسلمان عمومی طور پر سادہ مزاج، خوش اخلاق اور دین سے گہرا تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔
ان کی بڑی تعداد تجارت کے پیشے سے وابستہ ہے اور بہت سے مسلمان خوشحال زندگی بھی گزار رہے ہیں۔ کاروبار ان کی معاشرتی زندگی کا ایک نمایاں حصہ ہے اور مختلف علاقوں میں مسلمان تاجروں کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔
اگرچہ سری لنکا میں مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں، لیکن دینی معاملات میں ان کی سنجیدگی قابل ذکر ہے۔ اسلام سے محبت ان کے دلوں میں بڑی مضبوطی کے ساتھ رچی بسی ہے۔
وہ اپنی مذہبی شناخت، مساجد، دینی تعلیم اور اسلامی ماحول کے ساتھ مضبوط وابستگی رکھتے ہیں۔
سری لنکا کے مسلمانوں کا تبلیغی جماعت کے ساتھ بھی بہت مضبوط تعلق ہے۔
وہ تبلیغی وفود کا غیر معمولی اکرام کرتے ہیں اور دوسرے علاقوں یا ممالک سے آنے والے دینی مہمانوں کو محبت اور احترام دیتے ہیں۔
روزانہ کی بنیاد پر مساجد اور دینی مراکز میں دروس، تعلیم اور گشت کا اہتمام ہوتا ہے۔ ان سرگرمیوں میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں۔
دین سیکھنے، سننے اور دوسروں تک پہنچانے کا ایک باقاعدہ ماحول نظر آتا ہے۔ مساجد صرف نماز کی ادائیگی تک محدود نہیں بلکہ تعلیم، دعوت، ملاقات اور اصلاح کا مرکز بھی دکھائی دیتی ہیں۔
یہ چیز میرے لیے خاص طور پر قابل توجہ تھی کہ تعداد کم ہونے کے باوجود دینی سرگرمیوں میں ان کی شرکت اور سنجیدگی بہت زیادہ تھی۔
سری لنکن مسلمان پاکستان کو بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔
اسلام، دینی مدارس اور کرکٹ کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ ان کی ایک خاص ذہنی اور جذباتی وابستگی ہے۔ وہ پاکستان سے محبت رکھتے ہیں اور پاکستانی مسلمانوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
پاکستان کے دینی مدارس سے بھی ان کا گہرا تعلق ہے۔ سری لنکا کے بہت سے طلبہ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاکستان آتے رہے ہیں، جن میں میرے دوست سلیم الدین بھی شامل تھے۔
اسی تعلیمی اور دینی تعلق کی وجہ سے پاکستان اور سری لنکا کے مسلمانوں کے درمیان ایک خاص اپنائیت پائی جاتی ہے
اس سفر نے مجھے سکھایا کہ وسائل کی کمی ہمیشہ راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ نہیں ہوتی۔
میں اس وقت ایک طالب علم تھا۔ میرے پاس بیرون ملک سفر کے لیے ذاتی سرمایہ موجود نہیں تھا۔ کپڑا ادھار لیا گیا، ٹکٹ قرض پر حاصل کیا گیا اور پوری منصوبہ بندی اس بنیاد پر کی گئی کہ تجارت کرکے تمام واجبات ادا کیے جائیں گے۔
اگر میں صرف یہ سوچتا رہتا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں، اس لیے میں سفر نہیں کرسکتا، تو شاید یہ تجربہ کبھی حاصل نہ ہوتا۔
وسائل کی کمی کے ساتھ اگر حوصلے کی کمی بھی شامل ہو جائے تو انسان کا سفر شروع ہونے سے پہلے ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر سوچ واضح ہو، منصوبہ حقیقت پسندانہ ہو اور عمل کی ہمت موجود ہو تو محدود وسائل کے باوجود راستے نکل آتے ہیں
اس سفر کا ایک بڑا سبق اعتماد کی حفاظت تھا۔
کوآپریٹو مارکیٹ کے تاجروں نے ہمیں کپڑا ادھار دیا۔ ٹریول ایجنٹ نے سلیم الدین کی شناخت اور ہمارے منصوبے کی بنیاد پر مجھے ادھار ٹکٹ دیا۔
یہ سب اعتماد کی مختلف صورتیں تھیں۔
اعتماد حاصل کرنا اہم ہے، لیکن اسے نبھانا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اگر واپسی پر ہم رقم ادا نہ کرتے یا اپنے وعدے پورے نہ کرتے تو شاید ہمارے لیے ہی نہیں بلکہ ہمارے جیسے دوسرے طلبہ کے لیے بھی آئندہ دروازے بند ہو جاتے۔
اسی لیے میں نے آئی بی اے کے طلبہ سے کہا تھا کہ انسان کو قابل اعتماد بننا چاہیے۔ دنیا میں بہت سے مواقع صرف قابلیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ کردار اور اعتماد کی بنیاد پر ملتے ہیں۔
قرض لینا بظاہر ایک مالی معاملہ ہے، لیکن حقیقت میں یہ انسان کے کردار کا امتحان بھی ہے۔
جب کوئی شخص آپ کو قرض دیتا ہے تو وہ صرف رقم نہیں دیتا، بلکہ آپ کے وعدے، نیت اور کردار پر اعتماد کرتا ہے۔
سری لنکا کے سفر میں ٹکٹ اور کپڑے دونوں ادھار لیے گئے تھے۔ واپسی پر انہیں ادا کرنا ہمارے منصوبے کا بنیادی حصہ تھا، کوئی اضافی یا اختیاری بات نہیں۔
ہم نے سفر کیا، تجارت کی، حساب کیا اور سب سے پہلے ان لوگوں کے حقوق ادا کیے جنہوں نے ہم پر اعتماد کیا تھا۔
یہی اصول انسان کو معاشرے میں قابل اعتماد مقام عطا کرتا ہے۔
اس سفر کے کئی مراحل ایسے تھے جہاں خوف یا پریشانی پیدا ہوسکتی تھی۔
کراچی ایئرپورٹ پر افسران کے سوالات، کولمبو ایئرپورٹ پر سلیم الدین کا تین گھنٹے تک باہر نہ آنا، اجنبی ملک میں قیام کی مشکل اور ادھار لیے گئے سامان کو کامیابی کے ساتھ فروخت کرنے کی ذمہ داری آسان معاملات نہیں تھے۔
لیکن میرے دوست سلیم الدین کا جملہ مسلسل ذہن میں موجود تھا:
“ڈرنا مت۔”
اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بے احتیاط ہو جائے یا بغیر سوچے سمجھے قدم اٹھائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ منصوبہ بندی اور احتیاط کے بعد خوف کو اپنے راستے کی دیوار نہ بننے دیا جائے۔
خوف انسان کو ممکنہ خطرات سے خبردار کرتا ہے، لیکن اگر یہی خوف انسان کے ذہن پر قابض ہو جائے تو وہ فیصلہ کرنے، سوچنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔
آئی بی اے کے طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ کامیاب تجربے کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔
سری لنکا کے کامیاب سفر کے بعد میں نے اپنے بھائیوں کو بھی اسی راستے پر بھیجا۔ انہیں تمام معاملات سمجھائے اور سفر، تجارت، خریداری اور فروخت کے طریقے سکھائے تاکہ وہ بھی اس تجربے سے فائدہ اٹھا سکیں۔
علم اور تجربہ بانٹنے سے کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے ہیں۔
اگر انسان کسی راستے پر چل کر کامیاب ہوا ہے تو اسے چاہیے کہ دوسروں کے لیے بھی اس راستے کی دشواریاں کم کرے۔ یہی رویہ خاندانوں، اداروں اور معاشروں کو مضبوط بناتا ہے۔
صرف اپنی ترقی کی فکر کرنے والا شخص شاید کامیاب ہو جائے، لیکن دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے والا شخص ایک کامیاب معاشرہ تشکیل دینے میں حصہ ڈالتا ہے۔
آئی بی اے کی اس نشست میں طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے یہی عرض کیا تھا کہ خواب ضرور دیکھیں، لیکن خواب کے ساتھ منصوبہ بنائیں۔
منصوبہ بنانے کے بعد پہلا قدم اٹھائیں۔
صرف گفتگو اور ارادے پر اکتفا نہ کریں، بلکہ اپنے منصوبے کو عملی شکل دیں۔
لوگ آپ پر اعتماد کریں تو اس اعتماد کو ٹوٹنے نہ دیں۔
قرض لیں تو اسے وعدے کے مطابق ادا کریں۔
کسی تجربے سے فائدہ حاصل ہو تو اسے دوسروں تک منتقل کریں۔
اور جب راستے میں مشکل، خوف یا بے یقینی سامنے آئے تو سلیم الدین کا وہ جملہ یاد رکھیں:
“ڈرنا مت۔”
سفر انسان کو صرف نئے شہر، عمارتیں اور مناظر نہیں دکھاتا۔ یہ اسے اپنی ذات، اپنی صلاحیتوں اور اپنی کمزوریوں کو سمجھنے کا موقع بھی دیتا ہے۔
انسان جب مانوس ماحول سے باہر نکلتا ہے تو اسے نئے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ وہ فیصلے کرنا، لوگوں سے معاملہ کرنا، حالات کو سمجھنا اور محدود وسائل میں راستہ نکالنا سیکھتا ہے۔
میرا سری لنکا کا سفر بھی اسی اعتبار سے ایک عملی درس گاہ ثابت ہوا۔
اس نے مجھے تجارت کا تجربہ دیا، خود اعتمادی دی، مختلف مسلمانوں سے ملنے کا موقع دیا اور یہ یقین عطا کیا کہ ہمت، دیانت داری اور منصوبہ بندی کے ساتھ بظاہر مشکل راستے بھی آسان ہوسکتے ہیں۔
یہ بہت اچھا اور یادگار سفر تھا۔ فی الحال اسی قدر کو کافی جانیے۔
اس سفر کے دوران پیش آنے والے بہت سے دوسرے واقعات اور مشاہدات بھی ہیں جو اپنی جگہ مکمل تحریر کے متقاضی ہیں۔
ان شاء اللہ سفر کی مزید یادداشتوں، ملاقاتوں اور مشاہدات کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
Episode Three: Sri Lankan Muslims and the Lessons That Stayed with Me
By Mufti Abdul Wahab
My journey to Sri Lanka was not only about travel, business or financial profit. It gave me an opportunity to meet new people, observe a different Muslim community and learn lessons that remained with me long after I returned to Pakistan.
We spent approximately one month in Sri Lanka, sold the fabric brought from Karachi, travelled to different cities, visited mosques and met local people. We later returned with betel leaves and cashew nuts, repaid every debt and still made a profit of around two hundred dollars.
However, the real value of the journey was not financial. The confidence, observations and life lessons I gained were far more valuable.
Sri Lankan Muslims generally appeared simple, warm and deeply attached to their faith.
Many were involved in trade and a significant number were financially comfortable. Commerce formed an important part of their community life, and Muslim traders were well established in different areas.
Although Muslims are not a very large population in Sri Lanka, I found them particularly serious about religious matters. Their love for Islam was strong and deeply rooted.
They maintained a close connection with their mosques, religious education and Islamic identity.
Their relationship with the Tablighi Jamaat was also very strong.
Visiting religious groups were treated with great honour and hospitality. Daily lessons, educational circles and local visits were regularly organised in mosques and Islamic centres, and large numbers of people participated.
The mosques were not limited to the performance of prayers. They functioned as centres of learning, community contact, invitation and spiritual reform.
What impressed me most was that although the Muslim community was relatively small in number, its religious seriousness and participation were considerable.
Sri Lankan Muslims also knew Pakistan very well. Their connection with Pakistan came through Islam, religious seminaries and cricket.
Many Sri Lankan students had travelled to Pakistan for Islamic education, including my friend Saleemuddin. These educational and religious links created a genuine sense of affection between the Muslims of both countries.
One of the greatest lessons of the journey was that limited resources do not always prevent progress.
I was a student with no personal capital. The fabric was obtained on credit, and the airline ticket was also issued on trust. Everything depended on a realistic plan and our determination to carry it out.
Had I simply concluded that travel was impossible because I had no money, the journey would never have taken place.
A shortage of resources becomes more dangerous when it is joined by a shortage of courage. But when a person has a clear plan, honest intentions and the willingness to act, even limited means can lead to unexpected opportunities.
The journey also taught me the value of protecting people’s trust.
The traders at Cooperative Market had supplied the fabric on credit. The travel agent had issued my ticket because he knew Saleemuddin and believed our promise.
These were not ordinary transactions. They were expressions of confidence in our character.
If we had failed to repay them, we might not only have damaged our own reputation but also closed doors for other students in the future.
I told the IBA students that many opportunities in life come not only because of qualifications, but because people consider a person trustworthy.
Trust is built slowly through honesty, responsibility and consistency, but it can be destroyed by a single broken promise.
Borrowing money is not merely a financial matter. It is also a test of character.
When someone gives you credit, that person is placing confidence in your intention and your promise to repay.
For our journey, both the fabric and the ticket were obtained on credit. Repaying them was never optional. It was a central part of the plan.
After returning, we calculated everything and first fulfilled the rights of those who had trusted us.
This principle applies far beyond business. A person’s reliability is revealed by the way he handles obligations, promises and the rights of others.
There were several moments during the journey when fear could have taken control: questioning at Karachi Airport, waiting for three hours alone at Colombo Airport, finding accommodation in a new country and carrying the responsibility of selling borrowed goods.
At every stage, Saleemuddin’s phrase returned to me:
“Do not be afraid.”**
This does not mean acting recklessly or making decisions without thought. Courage must be accompanied by planning, caution and responsibility.
It means that once a person has considered the situation properly, fear should not be allowed to become a wall between him and progress.
At IBA, I also told the students that personal success should not remain personal.
After my Sri Lanka experience, I guided my brothers through the same process. I explained the practical details of travel, buying and selling so they could also benefit.
Knowledge and experience grow when shared.
If a person has travelled a difficult path, he should make that path easier for others. This is how families, institutions and societies become stronger.
The message I gave to the students was simple: dream, but also plan. Plan, but also act. Honour the trust people place in you. Repay debts and fulfil promises. Share useful experience with others.
And when uncertainty appears, remember the words that remained with me throughout that journey:
“Do not be afraid.”
Travel does not only show us new cities and landscapes. It reveals our strengths, exposes our weaknesses and teaches us how to make decisions in unfamiliar circumstances.
My journey to Sri Lanka became a practical school of courage, trade, responsibility and human connection.
Many more incidents and observations from that journey deserve to be recorded separately. God willing, I hope to continue sharing these travel memories in the future.