
قسط اوّل: ایک خواب، ادھار کا ٹکٹ اور پہلا بین الاقوامی سفر
مفتی عبدالوہاب
کبھی کبھی پرانی تصویریں محض گزرے ہوئے وقت کی یادگار نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے اندر ایک پورا زمانہ، بے شمار چہرے اور زندگی کے کئی قیمتی اسباق سمیٹے ہوتی ہیں۔ گزشتہ دنوں پرانی یادوں کی گرد جھاڑتے ہوئے ایک تصویر نظر سے گزری تو اس کے ساتھ ہی ماضی کی ایک خوبصورت داستان ذہن میں تازہ ہوگئی۔
یہ تصویر کراچی کے تعلیمی ادارے، آئی بی اے میں منعقد ہونے والی ایک نشست کی تھی، جہاں چند برس قبل مجھے طلبہ سے گفتگو کا موقع ملا تھا۔ گفتگو کا موضوع میرے زمانہ طالب علمی کا وہ سفر تھا جو میں نے 1992 میں سری لنکا کا کیا تھا۔
بظاہر یہ ایک سفر کی روداد تھی، لیکن درحقیقت اس میں ہمت، منصوبہ بندی، دیانت داری، خود اعتمادی اور عملی جدوجہد کے کئی اسباق پوشیدہ تھے۔
طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے انہیں صرف یہ نہیں بتایا کہ ایک مدرسے کا طالب علم بغیر کسی ذاتی سرمائے کے کس طرح بیرون ملک سفر پر روانہ ہوا، بلکہ یہ بھی عرض کیا کہ زندگی میں کامیابی اکثر کسی غیر معمولی ذریعے سے نہیں، بلکہ ایک چھوٹا سا قدم اٹھانے سے شروع ہوتی ہے۔
زندگی میں خواب دیکھنا آسان ہے، لیکن اس خواب کی طرف پہلا قدم بڑھانا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ وسائل کی کمی، ناکامی کا خوف، لوگوں کی باتیں اور مستقبل کی بے یقینی انسان کے قدم روکنے لگتی ہیں۔
میں نے آئی بی اے کے طلبہ سے کہا کہ کامیابی کا آغاز پہلا قدم اٹھانے سے ہوتا ہے، لیکن اس قدم کو اٹھانے کے لیے ایک اور چیز نہایت ضروری ہے، اور وہ ہے حوصلہ۔
اپنے سری لنکن دوست سلیم الدین کا ذکر کرتے ہوئے میں نے انہیں بتایا کہ اس کا ایک جملہ میری زندگی میں ہمیشہ میرے ساتھ رہا۔ وہ اکثر میرا کندھا تھپتھپا کر کہا کرتا تھا:
“عبدالوہاب! ڈرنا مت۔”
یہ اس کا تکیہ کلام تھا، لیکن میرے لیے یہ محض دو الفاظ نہیں رہے۔ زندگی کے مختلف مراحل میں جب بھی کسی مشکل، نئی صورت حال یا غیر یقینی راستے کا سامنا ہوا تو یہ جملہ یاد آیا کہ ڈرنا نہیں، حالات کا سامنا کرنا ہے۔
زندگی میں کئی مواقع ایسے آتے ہیں جہاں انسان کے پاس تمام سوالات کے جواب نہیں ہوتے، راستے پوری طرح واضح نہیں ہوتے اور کامیابی کی کوئی ضمانت بھی موجود نہیں ہوتی۔ ایسے وقت میں ایک قدم حوصلے کے ساتھ آگے بڑھانا پڑتا ہے۔
میں نے طلبہ سے یہ بھی عرض کیا کہ صرف خواب دیکھ لینا یا کسی کام کے بارے میں اچھی گفتگو کرنا کافی نہیں۔ خواب کو حقیقت بنانے کے لیے درست منصوبہ بندی اور پھر اس منصوبے پر پورا عمل ضروری ہے۔
ہم میں سے بہت سے لوگ اچھے خیالات رکھتے ہیں، بڑے منصوبے بناتے ہیں اور کامیابی کی باتیں بھی کرتے ہیں، لیکن عملی قدم اٹھانے کا مرحلہ آتا ہے تو تاخیر، سستی یا خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اپنے سفر کی مثال دیتے ہوئے میں نے بتایا کہ میں نے اور سلیم الدین نے جو منصوبہ بنایا، اس پر مکمل طور پر عمل کیا۔ سفر کے لیے ٹکٹ ادھار لیا، سری لنکا میں فروخت کرنے کے لیے کپڑا قرض پر حاصل کیا اور واپسی پر اس قرض کو پوری دیانت داری کے ساتھ ادا کیا۔
یہی دیانت داری انسان کو قابل اعتماد بناتی ہے۔ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ کسی شخص نے وعدہ کیا اور اسے پورا بھی کیا، کسی نے اعتماد کیا اور اس اعتماد کی حفاظت بھی ہوئی تو اس شخص کے لیے مزید راستے کھلنے لگتے ہیں۔
اعتماد بازار سے خریدا نہیں جا سکتا۔ یہ انسان اپنے کردار، سچائی اور وعدوں کی پابندی سے حاصل کرتا ہے۔
اس نشست میں میں نے طلبہ کے ساتھ ایک اور اہم اصول بھی شیئر کیا کہ انسان کے پاس جو علم، مہارت یا تجربہ ہو، اسے صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔
سری لنکا کے کامیاب تجربے کے بعد میں نے اپنے بھائیوں کو بھی اسی راستے پر بھیجا۔ انہیں تمام معاملات سمجھائے، سفر، تجارت اور خرید و فروخت کے طریقے بتائے تاکہ وہ بھی اس تجربے سے فائدہ اٹھا سکیں۔
علم اور تجربہ تقسیم کرنے سے کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے ہیں۔ انسان اگر کسی راستے کی دشواریوں سے گزر چکا ہو تو اسے چاہیے کہ دوسروں کے لیے وہ راستہ آسان بنا دے۔
ان بنیادی نکات کے بعد میں نے طلبہ کو اپنے سری لنکا کے سفر کی تفصیلات سنائیں، جو آج بھی میری زندگی کی حسین یادوں اور قیمتی تجربات میں شامل ہیں۔
یہ 1992 کی بات ہے۔ میں اس وقت مدرسہ بنوری ٹاؤن کراچی میں زیر تعلیم تھا۔ ہمارے ساتھ سری لنکا سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم، سلیم الدین صاحب بھی تعلیم حاصل کرتے تھے۔
وہ سری لنکا سے دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاکستان آئے تھے۔ میری ان سے اچھی دوستی تھی اور اکثر ہماری گپ شپ رہتی تھی۔ انہی گفتگوؤں کے دوران وہ اپنے ملک، وہاں کے لوگوں، ماحول اور مسلمانوں کے حالات کے بارے میں بتایا کرتے تھے۔
ان کی باتیں سن کر میرے دل میں سری لنکا دیکھنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف سری لنکا ہی نہیں، مجھے بچپن سے سفر کا شوق رہا ہے۔ نئی جگہوں کو دیکھنا، مختلف لوگوں سے ملنا اور تہذیبوں اور معاشروں کا مشاہدہ کرنا ہمیشہ میرے لیے باعث کشش رہا ہے۔
بعد کے برسوں میں خداوند کریم نے میری ان خواہشات کو بڑی حد تک پورا بھی فرمایا اور دنیا کے مختلف ممالک دیکھنے کے مواقع عطا کیے۔
عمرہ کے بعد میرا پہلا بین الاقوامی سفر 1992 میں اپنے دوست سلیم الدین کے ساتھ سری لنکا کا تھا۔ اس سفر کی تیاری کی داستان بھی سفر سے کم دلچسپ نہیں۔
میں اس وقت ایک طالب علم تھا اور عموماً طلبہ کے پاس روپے پیسے کی کمی ہی ہوتی ہے۔ بیرون ملک سفر کا شوق تو تھا، لیکن سفر کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے کوئی سرمایہ موجود نہیں تھا۔
میں نے اور سلیم الدین نے سوچا کہ کوئی چھوٹا سا کاروباری منصوبہ بنایا جائے۔ طے ہوا کہ کراچی سے کپڑا لے کر سری لنکا جائیں گے، وہاں اسے فروخت کریں گے اور واپسی پر سری لنکا سے پان اور کاجو پاکستان لائیں گے۔
انہیں یہاں فروخت کرکے نہ صرف سفر کے اخراجات پورے کیے جائیں گے بلکہ ادھار بھی ادا کر دیا جائے گا۔
ہم کراچی کی کوآپریٹو مارکیٹ صدر گئے اور وہاں سے کچھ کپڑا ادھار پر حاصل کیا۔ ایک اہم مرحلہ ابھی باقی تھا، اور وہ ہوائی ٹکٹ کا انتظام تھا۔
سلیم الدین سری لنکا جانے کے لیے جس ٹریول ایجنٹ سے عموماً ٹکٹ خریدا کرتے تھے، ہم ان کے پاس پہنچے۔ ہم نے ان سے کہا کہ مجھے ٹکٹ ادھار دے دیں، میں سری لنکا سے واپس آکر اس کی رقم ادا کر دوں گا۔
میری بات سن کر انہوں نے پہلے سر سے پاؤں تک میرا جائزہ لیا۔ شاید وہ سوچ رہے تھے کہ مدرسے کا یہ نوجوان طالب علم کس اعتماد کے ساتھ بیرون ملک سفر کے لیے ادھار ٹکٹ مانگ رہا ہے۔
پھر انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا:
“واپس آکر پیسوں کا بندوبست کیسے کرو گے؟”
ہم نے انہیں پورا منصوبہ بتایا کہ یہاں سے کپڑا لے کر سری لنکا جائیں گے، وہاں اسے فروخت کریں گے اور واپسی پر پان اور کاجو پاکستان لاکر فروخت کریں گے۔ اس طرح ہم ٹکٹ کی رقم ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔
ہماری بات سن کر ان کی حیرانی مزید بڑھ گئی کہ مدرسے کے یہ نوجوان طلبہ کس قسم کی کاروباری منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
بہرحال وہ سلیم الدین کو جانتے تھے، اور شاید اس زمانے کے لوگوں کا مزاج بھی کچھ مختلف تھا۔ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا اور ٹکٹ بنا کر ہمارے ہاتھ میں تھما دیا۔
اس ایک فیصلے نے میرے لیے ایک نئے ملک کے دروازے کھول دیے۔
ان دنوں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے سارک ممالک کے سفر کے لیے خصوصی رعایت کا اعلان کر رکھا تھا۔ طلبہ کو بھی کرایے میں رعایت دی جاتی تھی۔ تمام رعایتوں کے بعد ٹکٹ تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار روپے میں پڑا۔
آج کے زمانے میں یہ رقم شاید معمولی محسوس ہو، لیکن ایک طالب علم کے لیے اس وقت یہ بڑا خرچ تھا، خصوصاً اس صورت میں جب ٹکٹ بھی ادھار لیا گیا ہو۔
ٹکٹ کے بعد اگلا مرحلہ ویزے کا تھا۔ ہم سری لنکن ہائی کمیشن پہنچے۔ وہاں عملے کا ایک مسلمان رکن سلیم الدین کو جانتا تھا۔ اس تعلق کی وجہ سے معاملات آسان ہوگئے اور انہوں نے میرے پاسپورٹ پر بآسانی ویزا لگا دیا۔
یوں سفر کے دو اہم مراحل، ٹکٹ اور ویزا، مکمل ہوگئے۔
اب ہمیں مدرسے کی سالانہ چھٹیوں کا انتظار تھا، جو چند دنوں بعد شروع ہونے والی تھیں۔ ان دنوں بنوری ٹاؤن میں سری لنکا سے تعلق رکھنے والے کافی طلبہ زیر تعلیم تھے اور سالانہ تعطیلات میں انہیں بھی اپنے ملک واپس جانا تھا۔
وہ سب اس بات پر بہت خوش تھے کہ اس مرتبہ ان کا ایک پاکستانی ہم جماعت بھی ان کے ساتھ سری لنکا جا رہا ہے۔
بالآخر سفر کا دن آگیا۔
مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ میں اپنے دوست وقار نصیر کے ساتھ اس کی ایف ایکس کار میں کراچی ایئرپورٹ گیا تھا۔ راستے میں کچھ دیر ہوگئی تھی، اس لیے وقار کو خاصی تیز اور خطرناک ڈرائیونگ کرنا پڑی۔
وقار آج بھی میرا بہت اچھا دوست ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے خوش رکھے اور اپنی حفاظت میں رکھے۔
ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد سکیورٹی اور کسٹم کا مرحلہ آیا۔ وہاں موجود ایک افسر نے مجھے سری لنکن طلبہ کے ساتھ دیکھا تو بڑی حیرت سے پوچھا:
“تم ان سری لنکن طلبہ کے ساتھ ان کے ملک کیوں جا رہے ہو؟”
میں نے اسے بتایا کہ میں پاکستان سے کپڑا لے کر سری لنکا جا رہا ہوں اور وہاں اسے فروخت کروں گا۔
میری بات سن کر وہ بھی بہت حیران ہوا۔ شاید اس کے لیے یہ بات غیر معمولی تھی کہ مدرسے کا ایک طالب علم کپڑا لے کر تجارت کی غرض سے سری لنکا جا رہا ہے۔
اس نے مجھے کلیئر کرکے آگے جانے کی اجازت دے دی۔ میرے سامان کا وزن بھی مقررہ حد سے کچھ زیادہ تھا، لیکن اس نے عملے سے کہا کہ مدرسے کے طلبہ ہیں، انہیں جانے دیا جائے، اور یوں اضافی وزن بھی کلیئر ہوگیا۔
ان دنوں میں لال رنگ کی افغانی ٹوپی پہنا کرتا تھا۔ اب معلوم نہیں یہ اس ٹوپی کا کرشمہ تھا یا اس افسر کے دل میں دین اور اہل دین کی محبت، بہرحال وہ ہمارے ساتھ بڑی شفقت اور مہربانی سے پیش آیا۔
ایئرپورٹ کے تمام مراحل بآسانی مکمل ہوئے، ہم جہاز میں سوار ہوئے اور کچھ وقت بعد سری لنکا پہنچ گئے۔
Episode One: A Dream, a Ticket on Credit and My First International Journey
By Mufti Abdul Wahab
Sometimes an old photograph does more than revive a memory. It opens the door to an entire chapter of life, bringing back faces, conversations and lessons that have remained with us for years.
Recently, while looking through some old photographs, I came across a picture from a session at the IBA, Karachi. A few years ago, I had the opportunity to speak to IBA students about a journey I made to Sri Lanka in 1992, during my student days.
It was not merely a travel story. It was a story of courage, planning, trust, honesty and the willingness to take the first step despite limited resources.
I told the students that success does not always begin with wealth, influence or perfect circumstances. Very often, it begins with a small but courageous decision.
My Sri Lankan friend, Saleemuddin, had a phrase that became an important principle in my life. He would often tap me on the shoulder and say:
“Abdul Wahab, do not be afraid.”
It was his favourite expression, but for me it became much more than that. Whenever I faced uncertainty or a difficult situation, those words reminded me not to allow fear to take control.
There are moments in life when the entire path is not visible. We may not have answers to every question or any guarantee of success. Yet, after proper thought and planning, we must still have the courage to move forward.
Fear can warn us of danger, but it should not deprive us of the ability to think, decide and act.
I also told the students that dreaming alone is not enough. Many people have excellent ideas and make impressive plans, but they never turn those plans into action.
A dream becomes meaningful only when it is supported by realistic planning, hard work and commitment.
In my own case, I did not simply speak about travelling to Sri Lanka. Saleemuddin and I developed a practical plan. We would take fabric from Karachi, sell it in Sri Lanka and bring back betel leaves and cashew nuts to sell in Pakistan.
The fabric was obtained on credit, and the airline ticket was also purchased on trust. When we returned, every debt was repaid honestly.
Trust cannot be purchased. It is earned through truthfulness, reliability and the fulfilment of promises. Once people see that you honour your commitments, new opportunities begin to open.
I also emphasised that knowledge and experience should not remain limited to one person. After my successful journey, I later guided my brothers through the same process and explained the details of travel and trade to them.
Knowledge does not decrease when it is shared. It grows, and it makes the path easier for others.
In 1992, I was studying at Jamia Uloom-ul-Islamia, Banuri Town, Karachi. Among our fellow students was Saleemuddin, who had come from Sri Lanka to study Islam in Pakistan.
We became good friends and often spoke about his country, its people and its Muslim community. Through these conversations, I developed a strong desire to visit Sri Lanka.
In reality, I had loved travelling since childhood. I always wanted to see new places, meet different people and observe different cultures. In later years, Allah Almighty graciously fulfilled many of these wishes and gave me opportunities to visit numerous countries.
After Umrah, my journey to Sri Lanka with Saleemuddin became my first international trip.
I was still a student, and students usually have very limited financial resources. I had the desire to travel but no personal capital with which to fund the journey.
Saleemuddin and I therefore created a small business plan. We went to Cooperative Market in Saddar, Karachi, and obtained fabric on credit. The intention was to sell it in Sri Lanka and use the income to cover the costs of the trip.
The next challenge was the airline ticket.
Saleemuddin regularly bought his Sri Lanka tickets from a particular travel agent. We approached him and requested that he issue my ticket on credit, promising to repay him after our return.
He looked at me from head to toe, clearly surprised that a young madrasa student was asking for an international ticket without immediate payment.
He smiled and asked:
“How will you arrange the money after returning?”
We explained our entire plan. We would sell fabric in Sri Lanka, bring back betel leaves and cashew nuts, sell them in Pakistan and repay him.
His surprise increased, but he knew Saleemuddin and decided to trust us. Perhaps people in those days also had a different kind of confidence in one another. He issued the ticket and placed it in my hands.
That act of trust opened the door to a new world for me.
At that time, Pakistan International Airlines was offering a special discount for travel to SAARC countries, and students also received reduced fares. After all concessions, the ticket cost approximately 8,500 rupees.
For a student in 1992, particularly one travelling on credit, this was still a significant amount.
We then visited the Sri Lankan High Commission for the visa. A Muslim staff member there knew Saleemuddin, so the process became easier and the visa was placed in my passport without difficulty.
Now only the annual madrasa holidays remained.
At that time, several Sri Lankan students were studying at Banuri Town, and they were delighted that a Pakistani classmate would be returning home with them.
On the day of departure, my close friend Waqar Naseer drove me to Karachi Airport in his FX car. We were slightly late, and he had to drive extremely fast. Waqar remains a very good friend to this day. May Allah keep him happy and protected.
At the airport, a customs officer saw me travelling with the Sri Lankan students and asked in surprise why I was going with them.
I explained that I was taking fabric to Sri Lanka to sell.
He was also astonished that a madrasa student was travelling abroad for trade. Nevertheless, he cleared me. My luggage was slightly overweight, but he instructed the staff to allow it, saying that we were madrasa students.
In those days, I used to wear a red Afghan cap. I do not know whether it was the effect of the cap or the officer’s respect for religious students, but he treated us with great kindness.
The formalities were completed, we boarded the aircraft, and my first international journey began.
(To be Continued)…