Are we wasting our life?

کہیں ہم اپنی عمر ضائع تو نہیں کر رہے؟

مفتی عبدالوہاب

Are we waiting our life

انسان اس دنیا میں بہت سی چیزیں کھو کر دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔ مال چلا جائے تو محنت سے واپس آ سکتا ہے، صحت متاثر ہو تو علاج سے بحال ہو سکتی ہے، مگر زندگی کا جو لمحہ ایک بار گزر جائے، دنیا کی کوئی طاقت اسے واپس نہیں لا سکتی۔

وقت صرف گھڑی کی سوئیوں کی حرکت کا نام نہیں، بلکہ ہماری زندگی کا اصل سرمایہ ہے۔ یہ خاموشی سے گزرتا رہتا ہے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ہماری عمر کا ایک حصہ کم ہو جاتا ہے۔ نہ اسے محفوظ کیا جا سکتا ہے، نہ قرض لیا جا سکتا ہے اور نہ ہی گزر جانے کے بعد واپس بلایا جا سکتا ہے۔

عمر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عظیم امانت ہے۔ اسی محدود زندگی میں ہمیں اپنی ہمیشہ رہنے والی آخرت کی تیاری کرنی ہے۔ اس لیے زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے، خواہ وہ ہمیں کتنا ہی معمولی کیوں نہ دکھائی دے۔

مال کے نقصان کا احساس، عمر کے نقصان سے غفلت

کتنا عجیب ہے کہ گھر کی کوئی چیز ٹوٹ جائے تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں، کاروبار میں معمولی نقصان ہو تو راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے اور موبائل چند لمحوں کے لیے گم ہو جائے تو دل بے قرار ہو جاتا ہے، مگر زندگی کے کئی دن فضول مشاغل میں گزر جائیں تو ہمیں کوئی افسوس نہیں ہوتا۔

ہم اپنے مال کا حساب رکھتے ہیں، لیکن اپنے وقت کا نہیں۔ چند پاؤنڈ یا چند ہزار روپے کا نقصان برسوں یاد رہتا ہے، مگر عمر کے قیمتی لمحات کہاں خرچ ہوئے، اس پر غور کرنے کی فرصت نہیں ملتی۔

حقیقت یہ ہے کہ مال کا نقصان پورا ہو سکتا ہے، مگر عمر کا نقصان کبھی پورا نہیں ہوتا۔

وقت گزارنے کے ہزاروں طریقے

آج انسان نے وقت گزارنے کے بے شمار ذرائع پیدا کر لیے ہیں، مگر وقت کو بامقصد بنانے کا ہنر کم ہی سیکھا ہے۔

صبح آنکھ کھلتے ہی ہاتھ دعا کے لیے نہیں، موبائل کے لیے بڑھتا ہے۔ پیغامات، خبریں، ویڈیوز اور سوشل میڈیا کی دنیا چند منٹوں کے ارادے کو کئی گھنٹوں میں بدل دیتی ہے۔

ہمیں پوری دنیا کی خبریں معلوم ہیں، مگر اپنے دل کی خبر نہیں۔ دوسروں کی کامیابیوں اور مصروفیات کا علم ہے، مگر یہ یاد نہیں کہ آج ہم نے کتنی مرتبہ اپنے رب کو یاد کیا۔

انگلیاں اسکرین کو مسلسل چھوتی ہیں، مگر تسبیح کے دانوں تک پہنچنے کا وقت نہیں ملتا۔ آنکھیں گھنٹوں ویڈیوز دیکھ سکتی ہیں، لیکن قرآنِ مجید کی چند آیات پڑھتے ہوئے تھکن محسوس ہونے لگتی ہے۔

ٹیکنالوجی بذاتِ خود بری نہیں۔ یہی موبائل قرآن سننے، علم حاصل کرنے اور نیکی پھیلانے کا ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن جب اس کا استعمال بے مقصد ہو جائے تو یہی سہولت ہماری عمر کو خاموشی سے کھانے لگتی ہے۔

قرآنِ مجید کی تنبیہ

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں زمانے کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا:

وَالْعَصْرِ ۝ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ

ترجمہ: زمانے کی قسم، بے شک انسان خسارے میں ہے۔

یہ مختصر سورت انسانی زندگی کی پوری حقیقت بیان کر دیتی ہے۔ وقت گزر رہا ہے اور انسان کا سرمایہ کم ہو رہا ہے۔ اگر گزرتا ہوا وقت ایمان، عملِ صالح، حق کی دعوت اور صبر میں صرف نہ ہو تو وہ انسان کے لیے نفع نہیں بلکہ خسارہ ہے۔

دنیاوی کامیابی اپنی جگہ، مگر اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی عمر کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزارے۔

عمر قطرہ قطرہ ضائع ہوتی ہے

وقت ہمیشہ گھنٹوں اور دنوں کی صورت میں ضائع نہیں ہوتا۔ وہ اکثر چند منٹوں میں بہتا ہے۔

کچھ وقت فضول ویڈیوز میں، کچھ بے مقصد گفتگو میں، کچھ دوسروں کے معاملات پر بحث کرتے ہوئے اور کچھ ایسے کاموں میں جن کا نہ دنیا میں فائدہ ہے اور نہ آخرت میں۔

یہ چند منٹ بظاہر معمولی محسوس ہوتے ہیں، مگر جب روزانہ جمع ہوتے رہیں تو مہینوں اور برسوں میں بدل جاتے ہیں۔ پھر ایک دن انسان پلٹ کر دیکھتا ہے تو زندگی کا ایک بڑا حصہ اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا:

اے ابنِ آدم! تو دنوں کا مجموعہ ہے۔ جب تیرا ایک دن گزر جاتا ہے تو تیرا ایک حصہ بھی گزر جاتا ہے۔

ہر غروبِ آفتاب صرف ایک دن کا اختتام نہیں، بلکہ ہماری عمر میں حقیقی کمی ہے۔

صحت اور فراغت کی قدر

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ خسارے میں رہتے ہیں: صحت اور فراغت۔

انسان عموماً صحت کی قدر بیماری کے بعد اور فرصت کی اہمیت مصروفیت کے وقت سمجھتا ہے۔ جوانی میں وہ نیکی اور عبادت کو بڑھاپے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ توبہ کو کل پر ڈال دیتا ہے اور قرآن سیکھنے کو کسی آئندہ فرصت کے لیے مؤخر کر دیتا ہے۔

لیکن زندگی ہمارے منصوبوں کی پابند نہیں۔ کتنے لوگ آنے والے برسوں کی منصوبہ بندی کرتے رہے، مگر انہیں اگلا دن بھی نصیب نہ ہوا۔

توبہ اور اصلاح کے لیے سب سے بہتر وقت وہی ہے جو اس وقت ہمارے پاس موجود ہے۔

اپنے وقت کا حساب کیجیے

ہمیں کبھی تنہائی میں بیٹھ کر اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے:

ہم نے گزشتہ ہفتے قرآنِ مجید کے لیے کتنا وقت نکالا؟

ہماری نمازوں میں کتنی توجہ تھی؟

ہم نے اپنے والدین، اہلِ خانہ اور ضرورت مندوں کے لیے کیا کیا؟

اور ہم نے کتنے گھنٹے ایسی چیزوں پر صرف کیے جن کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں تھا؟

ہم آمدن اور اخراجات کا حساب رکھتے ہیں، لیکن زندگی کے گزرتے دنوں کا حساب نہیں کرتے۔ حالانکہ اصل سوال یہ نہیں کہ ہمیں کتنی لمبی زندگی ملی، بلکہ یہ ہے کہ جو زندگی ملی، اسے ہم نے کیسے گزارا۔

وقت جاتا کہاں ہے؟

فضول گفتگو، بے فائدہ بحثیں، غیبت، غیر ضروری تبصرے، مسلسل اسکرولنگ اور بے مقصد تفریح وقت کے وہ خاموش لٹیرے ہیں جو انسان کی عمر کو اس کی آنکھوں کے سامنے لوٹ لیتے ہیں۔

ان مصروفیات کا نقصان صرف وقت کا ضیاع نہیں، بلکہ یہ دل کی کیفیت بھی بدل دیتی ہیں۔ جب ذہن ہر وقت منتشر معلومات سے بھرا ہو تو نماز میں یکسوئی، تلاوت میں تدبر اور دعا میں حضوری پیدا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

انسان سارا دن مصروف رہتا ہے، مگر رات کو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا کام نہیں ہوا جسے حقیقی کامیابی کہا جا سکے۔

قیامت کے دن عمر کا سوال

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن بندہ اس وقت تک اپنے رب کے حضور سے نہیں ہٹے گا جب تک اس سے اس کی عمر کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کن کاموں میں گزارا۔

ہمیں سوچنا چاہیے کہ اگر ہماری زندگی کے گزشتہ برس ہمارے سامنے کھول دیے جائیں تو ان میں کیا دکھائی دے گا؟

کیا ہمارے دن عبادت، علم اور خدمت سے روشن ہوں گے؟

یا ہماری زندگی کا بڑا حصہ اسکرین، بحث، خواہشات اور غفلت میں گزرا ہوگا؟

موت کسی پیشگی اطلاع کے ساتھ نہیں آتی۔ وہ یہ نہیں دیکھتی کہ ہمارے منصوبے مکمل ہوئے ہیں یا نہیں۔ جب مقررہ وقت آ جاتا ہے تو زندگی کی کتاب وہیں بند کر دی جاتی ہے۔

ابھی دیر نہیں ہوئی

اگر آج ہمیں اپنی کوتاہی کا احساس ہو جائے تو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ جب تک سانس باقی ہے، توبہ اور اصلاح کا دروازہ کھلا ہے۔

اپنے دن کا کچھ حصہ قرآنِ مجید کے لیے مخصوص کیجیے۔

نمازوں کو اپنی زندگی کی ترجیح بنائیے۔

موبائل اور سوشل میڈیا کے استعمال کی حد مقرر کیجیے۔

اپنی زبان کو ذکر، درود اور اچھی گفتگو سے آراستہ کیجیے۔

والدین، اہلِ خانہ اور ضرورت مندوں کے لیے وقت نکالیے۔

روزانہ کوئی ایسا عمل ضرور کیجیے جو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو۔

رات کو سونے سے پہلے اپنے دن کا محاسبہ کیجیے۔ سوچیے کہ آج کا دن ہمارے حق میں گزرا یا ہمارے خلاف۔

ایک دن ہم سب کو اس دنیا سے رخصت ہونا ہے۔ مال، عہدے، شہرت اور مصروفیات یہیں رہ جائیں گی۔ ہمارے ساتھ صرف وہی اعمال جائیں گے جن کے لیے ہم نے اپنی عمر صرف کی ہوگی۔

آئیے آج اپنے آپ سے یہ سوال کریں

کیا ہم اپنی زندگی گزار رہے ہیں یا صرف وقت گزار رہے ہیں؟

اور کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری عمر خاموشی سے ضائع ہو رہی ہے، جبکہ ہمیں اس کا احساس بھی نہیں؟